تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 201 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 201

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۱ سورة الشعراء یہ نور ہدایت جو خارقِ عادت طور پر عرب کے جزیرہ میں ظہور میں آیا اور پھر دنیا میں پھیل گیا یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دلی سوزش کی تاثیر تھی۔ہر ایک قوم توحید سے دور اور مہجور ہو گئی مگر اسلام میں چشمہ توحید جاری رہا۔یہ تمام برکتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کا نتیجہ تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرما یا لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ اَلا يَكُونُوا مُؤْمِنِینَ یعنی کیا تو اس غم میں اپنے تئیں ہلاک کر دے گا جو یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔پس پہلے نبیوں کی امت میں جو اس درجہ کی صلاح و تقویٰ پیدا نہ ہوئی اس کی یہی وجہ تھی کہ اس درجہ کی توجہ اور دل سوزی امت کے لئے ان نبیوں میں نہیں تھی۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد صفحه ۱۰۳ حاشیه ) نبی بوجہ اس کے کہ ہمدردی بنی نوع کا اس کے دل میں کمال درجہ پر جوش ہوتا ہے اپنی روحانی تو جہات اور تضرع اور انکسار سے یہ چاہتا ہے کہ وہ خدا جو اس پر ظاہر ہوا ہے دوسرے لوگ بھی اس کو شناخت کریں اور نجات پاویں اور وہ دلی خواہش سے اپنے وجود کی قربانی خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کرتا ہے اور اس تمنا سے کہ لوگ زندہ ہو جائیں کئی موتیں اپنے لئے قبول کر لیتا ہے اور بڑے مجاہدات میں اپنے تئیں ڈالتا ہے جیسا کہ اس آیت میں اشارہ ہے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ اَلَا يَكُونُوا مُؤْمِنینَ یعنی کیا تو اس غم میں اپنے تئیں ہلاک کر دے گا کہ یہ کا فرلوگ کیوں ایمان نہیں لاتے تب اگر چہ خدا مخلوق سے بے نیاز اور مستغنی ہے مگر اس کے دائمی غم اور حزن اور کرب و قلق اور تذلل اور نیستی اور نہایت درجہ کے صدق اور صفا پر نظر کر کے مخلوق کے مستعد دلوں پر اپنے نشانوں کے ساتھ اپنا چہرہ ظاہر کر دیتا ہے اور اس کی پر جوش دعاؤں کی تحریک سے جو آسمان پر ایک صعبناک شور ڈالتی ہیں خدا تعالیٰ کے نشان زمین پر بارش کی طرح برستے ہیں اور عظیم الشان خوارق دنیا کے لوگوں کو دکھلائے جاتے ہیں جن سے دنیا دیکھ لیتی ہے کہ خدا ہے اور خدا کا چہرہ نظر آ جاتا ہے لیکن اگر وہ پاک نبی اس قدر دعا اور تضرع اور ابتہال سے خدا تعالیٰ کی طرف توجہ نہ کرتا اور خدا کے چہرہ کی چمک دنیا پر ظاہر کرنے کے لئے اپنی قربانی نہ دیتا اور ہر ایک قدم میں صدہا موتیں قبول نہ کرتا تو خدا کا چہرہ دنیا پر ہرگز ظاہر نہ ہوتا کیونکہ خدا تعالی بوجہ استغناء ذاتی کے بے نیاز ہے۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۱۷) چونکہ (حقانی ریفارمر۔ناقل ) بنی نوع کی ہمدردی میں محو ہوتے ہیں اس لئے رات دن سوچتے رہتے ہیں اور اس فکر میں گڑھتے رہتے ہیں کہ یہ لوگ کسی نہ کسی طرح اس راہ پر آجائیں اور ایک بار اس چشمہ سے ایک