تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 198 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 198

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۸ سورة الفرقان يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَولا دُعاؤ گھر اگر اس کی طرف رجوع رکھو گے تو تمہارا ہی اس میں فائدہ ہوگا۔(البدر جلد ۴ نمبر ۳ مورخه ۲۰ جنوری ۱۹۰۵ء صفحه ۲) خدا دین سے غافلوں کو ہلاکت میں ڈالنے سے پروا نہیں کرتا۔پس ثابت ہوا کہ جو دین سے غافل نہ ہوں ان کی ہلاکت اور موت میں خدا جلدی نہیں کرتا۔(الحکم جلد ۹ نمبر ۵ مورخه ۱۰ فروری ۱۹۰۵ صفحه ۵) بڑے بڑے صریح ظلم مظلوموں پر ڈھائے جاتے ہیں اور ہمارے سامنے ظالموں سے کوئی چنداں باز پرس نہیں ہوتی۔اس کا باعث بھی خدا تعالیٰ نے اسی آیت میں فرمایا ہے مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ یعنی خدا کو تمہاری پر وا کیا ہے اگر تم دعاؤں اور عبادت الہی میں تغافل اختیار کرو۔القام جلد ۹ نمبر ۵ مورخه ۱۰ / فروری ۱۹۰۵ صفحه ۵) اگر خدا تعالیٰ کی طرف انسان جھکے تو وہ رحم کرتا ہے لیکن جب انسان لا پرواہی کرے تو وہ فنی بے نیاز ہے۔اس کو کسی کی کیا پرواہ ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ لوگوں کو کہہ دے اگر تم دعا نہ کرو تو میرے رب کو تمہاری کیا پرواہ ہے بے شک وہ کریم ، رحیم اور حلیم ہے مگر ساتھ ہی وہ معنی بے نیاز بھی ہے۔( بدر جلد ۶ نمبر ۱، ۲ مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۷ صفحه ۱۳) مورکھ ہے وہ انسان جو اس ضروری سفر کا کچھ بھی فکر نہیں رکھتا۔خدا تعالیٰ اس شخص کی عمر کو بڑھا دیتا ہے جو سچ مچ اپنی زندگی کا طریق بدل کر خدا تعالی کا ہی ہو جاتا ہے ورنہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمُ رَبِّي لَو لَا دُعَاؤُكُمْ یعنی ان کو کہہ دو کہ خدا تعالیٰ تمہاری پرواہ کیا رکھتا ہے اگر تم اس کی بندگی اور عبادت نہ کرو۔سو جاگنا چاہیے اور ہوشیار ہونا چاہیے اور غلطی نہیں کھانا چاہیے کہ یہ گھر سخت بے بنیاد ہے۔الحکم جلد نمبر ۳۲ مورخه ۳۱ راگست ۱۹۰۳ صفحه ۱۳) یہ امر بھی بھی یا در رکھنا چاہیے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ نہ ہو اور رجوع نہ کرو تو اس سے اس کی ذات میں کوئی نقص پیدا نہیں ہو سکتا اور وہ تمہاری کچھ بھی پروا نہیں رکھتا جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ یعنی ان کو کہہ دو کہ میرا رب تمہاری پروا کیا رکھتا ہے اگر تم سچے دل سے اس کی عبادت نہ کرو جیسا کہ وہ رحیم وکریم ہے ویسا ہی وہ فنی بے نیاز بھی ہے۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۲ مورخہ ۱۷/جنوری ۱۹۰۷ صفحه ۶) دعا میں لگے رہو کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمُ رَبِّي لَو لَا دُعَاؤُكُمْ۔ایک انسان جو دعا نہیں کرتا اس میں اور چار پائے میں کچھ فرق نہیں۔احکام جلد ۱۱ نمبر ۳۲ مورخه ۱۰ ر تمبر ۱۹۰۷ صفحه ۶)