تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 194
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۴ سورة الفرقان ہوتی ہی نہیں صرف یہ خواہش ہوتی ہے کہ کوئی شریک یا غیر ان کی جائیداد کا مالک نہ بن جاوے۔مگر یا درکھو کہ اس طرح پر دین بالکل برباد ہو جاتا ہے غرض اولاد کے واسطے صرف یہ خواہش ہو کہ وہ دین کی خادم ہو۔الحکم جلد ۸ نمبر ۸ مورخه ۱۰/ مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۴) أوليكَ يُجْزَوْنَ الْغُرُفَةَ بِمَا صَبَرُوا وَ يُلَقَّوْنَ فِيهَا تَحِيَّةً وَ سَلَمَال خَلِدِينَ فِيهَا حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَ مُقَامًا با واصاحب کا ایک شعر یہ ہے او چوتھان سوہاوناں اوپر محمل مرار سچ کرنی دے پائے در گھر محل پیار یعنی وہ بہشت اونچا مکان ہے اس میں عمارتیں خوبصورت ہیں اور راست بازی سے وہ مکان ملتا ہے اور پیار اس محل کا دروازہ ہے جس سے لوگ گھر کے اندر داخل ہوتے ہیں اور یہ شعر اس آیت سے اقتباس کیا گیا ہے جو قرآن شریف میں ہے۔أوليكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ۔۔۔۔۔۔حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَ مُقَامًا یعنی جو لوگ راست باز ہیں اور خدا سے ڈرتے ہیں انہیں بہشت کے بالا خانوں میں جگہ دی جائے گی جو نہایت خوبصورت مکان اور آرام کی جگہ ہے۔دیکھو اس جگہ صریح باوا صاحب نے اس آیت کا ترجمہ کر دیا ہے۔کیا اب بھی کچھ شک باقی ہے کہ باوا صاحب قرآن شریف کے ہی تابعدار تھے۔اس قسم کا بیان بہشت کے بارہ میں وید میں کہاں ہے بلکہ انجیل میں بھی نہیں تبھی تو بعض نابینا عیسائی اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن میں جسمانی بہشت کا ذکر ہے مگر نہیں جانتے کہ قرآن بار بار کہتا ہے کہ جسم اور روح جو دونوں خدا تعالیٰ کی راہ میں دنیا میں کام کرتے رہے ان دونوں کو جزا ملے گی یہی تو پورا بدلہ ہے کہ روح کو روح کی خواہش کے مطابق اور جسم کو جسم کی خواہش کے مطابق بدلہ ملے لیکن دنیوی کدورتوں اور کثافتوں سے وہ جگہ بالکل پاک ہوگی اور لوگ اپنی پاکیزگی میں فرشتوں کے مشابہ ہوں گے اور بائیں ہمہ جسم اور روح دونوں کے لحاظ سے لذت اور سرور میں ہوں گے اور روح کی چمک جسم پر پڑے گی اور جسم کی لذت میں روح شریک ہوگا اور یہ بات دنیا میں حاصل نہیں ہوتی بلکہ دنیا میں جسمانی لذت روحانی لذت سے روکتی ہے اور روحانی لذت جسمانی لذت سے مانع آتی ہے مگر بہشت میں ایسا نہیں ہوگا بلکہ اس روز دونوں لذتوں کا ایک دوسری پر عکس پڑے گا اور اسی