تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 178
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام KLA سورة الفرقان جواب دیا ہے کہ تقدیر مبرم کی دو اقسام ہیں؛ ایک مبرم حقیقی اور ایک مبرم غیر حقیقی۔جو مبرم حقیقی ہے وہ تو کسی صورت سے ٹل نہیں سکتی ہے جیسے کہ انسان پر موت تو آنی ہے اب اگر کوئی چاہے کہ اس پر موت نہ آوے اور یہ قیامت تک زندہ رہے تو یہ نہیں مل سکتی دوسری غیر حقیقی وہ ہے جس میں مشکلات اور مصائب انتہائی درجہ تک پہنچ چکے ہوں اور قریب قریب نہ ٹلنے کے نظر آویں۔اس کا نام مجازی طور پر مبرم رکھا گیا ہے ورنہ حقیقی مبرم تو ایسی ہے کہ اگر کل انبیاء بھی مل کر دعا کریں کہ وہ ٹل جاوے تو وہ ہر گز نہیں مل سکتی۔(البدر جلد ۳ نمبر ۲۷ مورخہ ۱۶ / جولائی ۱۹۰۴ء صفحه ۳، ۴) تقدیر دو طرح کی ہوتی ہے ایک کو تقدیر معلق کہتے ہیں اور دوسری کو تقدیر مبرم کہتے ہیں ارادہ الہی جب ہو چکتا ہے تو پھر اس کا تو کچھ علاج نہیں ہوتا اگر اس کا بھی کچھ علاج ہوتا تو سب دنیا بیچ جاتی۔مبرم کے علامات ہی ایسے ہوتے ہیں کہ دن بدن بیماری ترقی کرتی جاتی ہے اور حالت بگڑتی چلی جاتی ہے۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۴ مورخه ۲۴ رستمبر ۱۹۰۷ء صفحه ۶) وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَذَا إِلَّا افَكُ إِفْتَريهُ وَأَعَانَهُ عَلَيْهِ قَوْمُ أَخَرُونَ فَقَدْ جَاء وَظُلْمًا وَزُوران اگر آنحضرت اُمی نہ ہوتے تو مخالفین اسلام بالخصوص یہودی اور عیسائی جن کو علاوہ اعتقادی مخالفت کے یہ بھی حسد اور بغض دامنگیر تھا کہ بنی اسرآئیل میں سے رسول نہیں آیا بلکہ ان کے بھائیوں میں سے جو بنی اسماعیل ہیں آیا۔وہ کیوں کر ایک صریح امر خلاف واقعہ پا کر خاموش رہتے بلاشبہ ان پر یہ بات بکمال درجہ ثابت ہو چکی تھی کہ جو کچھ آنحضرت کے منہ سے نکلتا ہے وہ کسی امی اور ناخواندہ کا کام نہیں اور نہ دس بیس آدمیوں کا کام ہے تب ہی تو وہ اپنی جہالت سے آعَانَهُ عَلَيْهِ قَوْمٌ أَخَرُونَ کہتے تھے اور جو ان میں سے دانا اور واقعی اہل علم تھے وہ بخوبی معلوم کر چکے تھے کہ قرآن انسانی طاقتوں سے باہر ہے اور ان پر یقین کا دروازہ ایسا کھل گیا تھا کہ ان کے حق میں خدا نے فرمایا يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَ هُمُ (البقرة : ١٣٧) - ( براہینِ احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۸۸ تا ۵۹۰) أَعَانَهُ عَلَيْهِ قَوْمُ أَخَرُونَ یعنی ایک بڑی جماعت نے متفق ہو کر قرآن شریف کو تالیف کیا ہے ایک (براہین احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۵۸۴) آدمی کا کام نہیں۔