تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 177
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 122 سورة الفرقان معلق ہوا کرتی ہے ایسی باریک رنگ میں ہوتی ہے کہ اس کو سرسری نظر سے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مبرم ہے چنانچہ شیخ عبد القادر صاحب جیلانی رحمتہ اللہ علیہ بھی اپنی کتاب فتوح الغیب میں لکھتے ہیں کہ میری دعا سے اکثر وہ قضا جو قضا مبرم کے رنگ میں ہوتی ہے مل جاتی ہے اور ایسے بہت سے واقعات ہو چکے ہیں مگر ان کے اس امر کا جواب ایک اور بزرگ نے دیا ہے کہ اصل بات یہ ہے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ تقدیر معلق ایسے طور سے واقع ہوتی ہے کہ اس کا پہچاننا کہ آیا معلق ہے یا مبرم محال ہو جاتا ہے۔اسے سمجھ لیا جاتا ہے کہ وہ مبرم ہے مگر در حقیقت ہوتی وہ تقدیر معلق ہے اور وہ ایسی ہی تقدیریں ہوں گی جو شیخ عبدالقادر رحمتہ اللہ علیہ کی دعا سے مل گئی ہوں کیونکہ تقدیر معلق مل جایا کرتی ہے۔غرض اہل اللہ نے اس امر کو خوب واضح طور سے لکھا ہے کہ قضا معلق مل جایا کرتی ہے۔۔۔۔۔وَ إِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا كَانَ عَلى رَبِّكَ حَتْماً مَقْضِيّا ( مريم :٧٢ ) سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ضرور انبیاء اور صلحاء کو بھی دنیا میں ایک ایسا وقت آتا ہے کہ نہایت درجہ کی مصیبت کا وقت اور سخت جانکاہ مشکل ہوتی ہے اور اہل حق بھی ایک دفعہ اسی صعوبت میں وارد ہوتے ہیں مگر خدا جلد تر ان کی خبر گیری کرتا اور ان کو اس سے نکال لیتا ہے اور چونکہ وہ ایک تقدیر معلق ہوتی ہے اسی واسطے ان کی دعاؤں اور ابتہال سے مل جایا کرتی ہے۔الحکم جلدے نمبر ۱۴ مورخه ۱۷ را پریل ۱۹۰۳ صفحه ۶) لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ تقدیر کے دو حصے کیوں ہیں تو جواب یہ ہے کہ تجربہ اس بات پر شاہد ہے کہ بعض وقت سخت خطر ناک صورتیں پیش آتی ہیں اور انسان بالکل مایوس ہو جاتا ہے لیکن دعا وصدقات و خیرات سے آخر کار وہ صورت ٹل جاتی ہے۔پس آخر یہ ماننا پڑتا ہے کہ اگر معلق تقدیر کوئی شے نہیں ہے اور جو کچھ ہے مبرم ہی ہے تو پھر دفع بلا کیوں ہو جاتا ہے؟ اور دعا وصدقہ و خیرات وغیرہ کوئی شے نہیں ہے بعض ارادے الہی صرف اس لئے ہوتے ہیں کہ انسان کو ایک حد تک خوف دلایا جاوے اور پھر صدقہ و خیرات جب وہ کرے تو وہ خوف دور کر دیا جاوے۔دعا کا اثر مثل نرومادہ کے ہوتا ہے کہ جب وہ شرط پوری ہو اور وقت مناسب مل جاوے اور کوئی نقص نہ ہو تو ایک امرٹل جاتا ہے اور جب تقدیر مبرم ہو تو پھر ایسے اسباب دعا کی قبولیت کے بہم نہیں پہنچتے۔طبیعت تو دعا کو چاہتی ہے مگر توجہ کامل میسر نہیں آتی اور دل میں گداز پیدا نہیں ہوتا۔نماز ،سجدہ وغیرہ جو کچھ کرتا ہے اس میں بدمزگی پاتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انجام بخیر نہیں اور تقدیر مبرم ہے۔۔۔کرتا سید عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ بھی لکھتے ہیں کہ بعض وقت میری دعا سے تقدیر مبرم مل گئی ہے۔اس پر شارح شیخ عبدالحق محدث دہلی نے اعتراض کیا ہے کہ تقدیر مبرم تو ٹل نہیں سکتی پھر اس کے کیا معنی ہوئے۔آخر خود ہی