تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 172 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 172

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۲ سورة الفرقان پیچھے کی طرف تا کہ جیسا آگے کی چیزوں کو دیکھتا ہے ویسا ہی پیچھے کی چیزوں کو بھی دیکھ لیتا اور کچھ شک نہیں کہ چار آنکھ کا ہونا بہ نسبت دو آنکھ کے کمال میں زیادہ اور فائدہ میں دو چند ہے۔اور انسان کے پر نہیں اور ممکن تھا کہ مثل اور پرندوں کے اس کے پر بھی ہوتے اور علی ہذا القیاس نفس ناطقہ انسان بھی ایک خاص درجہ میں محدود ہے جیسا کہ وہ بغیر تعلیم کسی معلم کے خود بخود مجہولات کو دریافت نہیں کر سکتا۔قاسر خارجی سے کہ جیسے جنون یا مخموری ہے سالم الحال نہیں رہ سکتا بلکہ فی الفور اس کی قوتوں اور طاقتوں میں تنزل واقع ہو جاتا ہے اسی طرح بذاتہ اور اک جزئیات کا نہیں کر سکتا جیسا کہ اس کو شیخ محقق بو علی سینا نے ممط سابع اشارات میں بتصریح لکھا ہے حالانکہ عند العقل ممکن تھا کہ ان سب آفات اور عیوب سے بچا ہوا ہوتا۔پس جن جن مراتب اور فضائل کو انسان اور اس کی روح کے لئے عقل تجویز کر سکتی ہے وہ کس بات سے ان مراتب سے محروم ہے آیا تجویز کسی اور مجوز سے یا خود اپنی رضامندی سے۔اگر کہو کہ اپنی رضامندی سے تو یہ صریح خلاف ہے کیونکہ کوئی شخص اپنے حق میں نقص روا نہیں رکھتا اور اگر کہو کہ تجویز کسی اور مجوز سے تو مبارک ہو کہ وجود خالق ارواح اور اجسام کا ثابت ہو گیا اور یہی مدعا تھا۔پرانی تحریریں، روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۹۰۸) اس کے خالق ہونے پر یہ دلیل واضح ہے کہ ہر ایک چیز کو ایک اندازہ مقرری میں محصور اور محدود پیدا کیا ہے جس سے وجود اس ایک حاصر اور محمد د کا ثابت ہوتا ہے۔( براہینِ احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۲۱ حاشیہ نمبر ۳) واضح رہے کہ تقدیر کے معنے صرف اندازہ کرنا ہے جیسے کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدرَة تَقْدِيرًا یعنی ہر ایک چیز کو پیدا کیا تو پھر اس کے لئے ایک مقرر انداز ٹھہرا دیا اس سے کہاں ثابت ہوتا ہے کہ انسان اپنے اختیارات سے روکا گیا ہے بلکہ وہ اختیارات بھی اسی اندازہ میں آگئے۔جب خدا تعالیٰ نے انسانی فطرت اور انسانی خوٹے کا اندازہ کیا تو اس کا نام تقدیر رکھا او اسی میں یہ مقرر کیا کہ فلاں حد تک انسان اپنے اختیارات برت سکتا ہے یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ تقدیر کے لفظ کو ایسے طور پر سمجھا جائے کہ گویا انسان اپنے خد دا د قومی سے محروم رہنے کے لئے مجبور کیا جاتا ہے۔اس جگہ تو ایک گھڑی کی مثال ٹھیک آتی ہے کہ گھڑی کا بنانے والا جس حد تک اس کا دور مقرر کرتا ہے اس حد سے وہ زیادہ چل نہیں سکتی۔یہی انسان کی مثال ہے کہ جو قومی اس کو دیئے گئے ہیں ان سے زیادہ وہ کچھ کر نہیں سکتا اور جو عمر دی گئی ہے اس سے زیادہ (جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۳۲) جی نہیں سکتا۔