تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 171
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 121 سورة الفرقان الَّذِئ لَهُ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَلَمْ يَتَّخِذُ وَلَدًا وَ لَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكَ فِي الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا وَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِةٍ الِهَةً لا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ وَ لَا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا وَلَا يَمْلِكُونَ مَوْتَا وَ لَا حَيوةً ولا نُشُوران خداوہ خدا ہے جو تمام زمین و آسمان کا اکیلا مالک ہے۔کوئی اس کا حصہ دار نہیں۔اس کا کوئی بیٹا نہیں اور نہ اس کے ملک میں کوئی اس کا شریک۔اور اسی نے ہر ایک چیز کو پیدا کیا اور پھر ایک حد تک اس کے جسم اور اس کی طاقتوں اور اس کی عمر کو محدود کر دیا اور مشرکوں نے بجز اس خدائے حقیقی کے اور اور ایسے ایسے خدا مقرر کر رکھے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کر سکتے بلکہ آپ پیدا شدہ اور مخلوق ہیں اپنے ضرر اور نفع کے مالک نہیں ہیں اور نہ موت اور زندگی اور جی اُٹھنے کے مالک ہیں اب دیکھو خدائے تعالیٰ صاف صاف طور پر فرمارہا ہے کہ بجز میرے کوئی اور خالق نہیں بلکہ ایک دوسری آیت میں فرماتا ہے کہ تمام جہان مل کر ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتا اور صاف فرماتا ہے کہ کوئی شخص موت اور حیات اور ضرر اور نفع کا مالک نہیں ہوسکتا۔اس جگہ ظاہر ہے کہ اگر کسی مخلوق کو موت اور حیات کا مالک بنادینا اور اپنی صفات میں شریک کر دینا اس کی عادت میں داخل ہوتا تو وہ بطور استثناء ایسے لوگوں کو ضرور باہر رکھ لیتا اور ایسی اعلیٰ توحید کی ہمیں ہر گز تعلیم نہ دیتا۔(ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۶۰،۲۵۹ حاشیه ) وَلَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكَ فِي الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَةُ تَقْدِیرا یعنی اس کے ملک میں کوئی اس کا شریک نہیں وہ سب کا خالق ہے اور اس کے خالق ہونے پر یہ دلیل واضح ہے کہ ہر ایک چیز کو ایک اندازہ مقرری پر پیدا کیا ہے کہ جس سے وہ تجاوز نہیں کر سکتی بلکہ اسی اندازہ میں محصور اور محدود ہے اس کی شکل منطقی اس طرح پر ہے کہ ہر جسم اور روح ایک اندازہ مقرری میں محصور اور محدود ہے اور ہر ایک وہ چیز کہ کسی اندازہ مقرری میں محصور اور محدود ہو اس کا کوئی حاصر اور محد دضرور ہوتا ہے نتیجہ یہ ہوا کہ ہر ایک جسم اور روح کے لئے ایک حاصر اور محدد ہے۔اب اثبات قضیہ اولیٰ کا یعنی محدود القدر ہونے اشیاء کا اس طرح پر ہے کہ جمیع اجسام اور ارواح میں جو جو خاصیتیں پائی جاتی ہیں عقل تجویز کر سکتی ہے کہ ان خواص سے زیادہ خواص ان میں پائے جاتے۔مثلاً انسان کی دو آنکھیں ہیں اور عند العقل ممکن تھا کہ اس کی چار آنکھیں ہوتیں دومنہ کی طرف اور دو