تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 163
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۳ سورة النُّور حضرت ابوبکر صدیق کے وقت میں ہوا جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موت ایک بے وقت موت سمجھی گئی اور بہت سے بادیہ نشین نادان مرتد ہو گئے اور صحابہ بھی مارے غم کے دیوانہ کی طرح ہو گئے۔تب خدا تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق کو کھڑا کر کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا اور اسلام کو نابود ہوتے ہوتے تھام لیا اور اُس وعدہ کو پورا کیا جو فرمایا تھا وَ لَيْسَكِنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِى ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَةِ لَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمنا۔یعنی خوف کے بعد پھر ہم ان کے پیر جما دیں گے۔ایسا ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں ہوا جب کہ حضرت موسی مصر اور کنعان کی راہ میں پہلے اس سے جو بنی اسرائیل کو وعدہ کے موافق منزل مقصود تک پہنچا دیں فوت ہو گئے اور بنی اسرائیل میں اُن کے مرنے سے ایک بڑا ماتم برپا ہوا جیسا کہ توریت میں لکھا ہے کہ بنی اسرائیل اس بے وقت موت کے صدمہ سے اور حضرت موسی کی ناگہانی جدائی سے چالیس دن تک روتے رہے۔ایسا ہی حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ معاملہ ہوا۔اور صلیب کے واقعہ کے وقت تمام حواری تتر بتر ہو گئے اور ایک ان میں سے مرتد بھی ہو گیا۔الوصیت ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۰۵،۳۰۴) قرآن شریف کی یہ آیت بھی کہ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِم یہی چاہتی ہے کہ اس اُمت کے لئے چودھویں صدی میں مثیل عیسی ظاہر ہو جیسا کہ حضرت عیسیٰ حضرت موسیٰ سے چودھویں صدی میں ظاہر ہوئے تھے تا دونوں مثیلوں کے اول و آخر میں مشابہت ہو۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۰۰) سورہ نور میں منکھ کا لفظ اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ہر ایک خلیفہ اسی اُمت میں سے ہوگا اور آیت كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِہ بھی اسی کی طرف اشارہ کر رہی ہے جس سے ظاہر ہے کہ کوئی امر غیر معمولی نہیں ہوگا بلکہ جس طرح صدر زمانہ اسلام میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ ہیں جیسا کہ آیت گیا اَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا (المزمل: ۱۶) سے ظاہر ہے ایسا ہی آخر زمانہ اسلام میں دونوں سلسلوں موسوی اور محمدی کا اول اور آخر میں تطابق پورا کرنے کے لئے مثیل عیسی کی ضرورت تھی۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۱۰،۱۰۹) ہمارا رسول مثیل موسیٰ ہے۔۔۔۔فرمایا وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ الخس ۱۸ اس مثیل موسیٰ کے خلفاء بھی اسی سلسلہ سے ہوں گے جیسے کہ موسیٰ کے خلفاء سلسلہ وار آئے۔اس سلسلہ کی میعاد چودہ سو برس تک رہی۔برابر خلفاء آتے رہے۔یہ ایک اللہ تعالی کی طرف سے پیشگوئی تھی کہ جس طرح سے پہلے سلسلہ کا آغاز ہوا ویسے ہی اس سلسلہ کا آغاز