تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 162 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 162

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۲ سورة النُّور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آیا۔اور دوسرا وہ زمانہ جو دجالی فتنہ کا زمانہ ہے جو مسیح کے عہد میں آنے والا تھا جس سے پناہ مانگنے کے لئے اس آیت میں اشارہ ہے غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِينَ ( الفاتحة : - ) اور اسی زمانہ کے لئے یہ پیشگوئی سورہ نور میں موجود ہے۔وَلَيُبَدِ لَنَّهُم مِّنْ بَعْدِ خوفهم آمنا۔اس آیت کے معنے پہلی آیت کے ساتھ ملا کر یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس دین پر آخری زمانہ میں ایک زلزلہ آئے گا اور خوف پیدا ہو جائے گا کہ یہ دین ساری زمین پر سے گم نہ ہو جائے۔تب خدا تعالی دوبارہ اس دین کو روئے زمین پر متمکن کر دے گا اور خوف کے بعد امن بخش دے گا۔لیکچر لاہور، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۱۸۷) سورہ نور میں صریح اشارہ فرماتا ہے کہ ہر ایک رنگ میں جیسے بنی اسرائیل میں خلیفے گزرے ہیں وہ تمام رنگ اس اُمت کے خلیفوں میں بھی ہوں گے۔چنانچہ اسرائیلی خلیفوں میں سے حضرت عیسی ایسے خلیفے تھے جنہوں نے نہ تلوار اُٹھائی اور نہ جہاد کیا۔سو اس امت کو بھی اسی رنگ کا مسیح موعود دیا گیا۔دیکھو آیت وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ ليُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِ لَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمَنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ في شَيْئًا وَ مَنْ كَفَرَ بَعد ذلِكَ فَأُولَيكَ هُمُ الْفَسِقُونَ۔اس آیت میں فقره كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قبلهم قابل غور ہے۔کیونکہ اس سے سمجھا جاتا ہے کہ محمدی خلافت کا سلسلہ موسوی خلافت کے سلسلہ سے مشابہ ہے اور چونکہ موسوی خلافت کا انجام ایسے نبی پر ہو ا یعنی حضرت عیسی پر جو حضرت موسیٰ سے چودھویں صدی کے سر پر آیا اور نیز کوئی جنگ اور جہاد نہیں کیا اس لئے ضروری تھا کہ آخری خلیفہ سلسلہ محمدی کا بھی اسی شان کا ہو۔(لیکچر سیالکوٹ ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۲۱۳، ۲۱۴) خدا تعالی۔۔۔۔۔۔دو قسم کی قدرت ظاہر کرتا ہے (۱) اول خود نبیوں کے ہاتھ سے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھاتا ہے (۲) دوسرے ایسے وقت میں جب نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پیدا ہو جاتا ہے اور دشمن زور میں آجاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اب کام بگڑ گیا اور یقین کر لیتے ہیں کہ اب یہ جماعت نابود ہو جائے گی اور خود جماعت کے لوگ بھی تردد میں پڑ جاتے ہیں اور اُن کی کمریں ٹوٹ جاتی ہیں اور کئی بد قسمت مرتد ہونے کی راہیں اختیار کر لیتے ہیں۔تب خدا تعالیٰ دوسری مرتبہ اپنی زبر دست قدرت ظاہر کرتا ہے اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے پس وہ جو اخیر تک صبر کرتا ہے خدا تعالیٰ کے اس معجزہ کو دیکھتا ہے جیسا کہ