تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 158 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 158

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۸ سورة النُّور حَالَةُ الْمُسْلِمِينَ في وَقْتِ اسْتِخْلافِهِ وَقَدْ ہونے کے وقت مسلمانوں کی کیسی کمزور حالت تھی اور كَانَ الْإِسْلَامُ مِنَ الْمَصَائِبِ كَالْحَرِيقِ اسلام مصائب کی وجہ سے ایک جلے ہوئے شخص کی طرح ثُمَّ رَدَّ اللهُ الكَرةَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَأَخْرَجَهُ تھا پھر اللہ نے دوبارہ اسلام کو طاقت بخشی اور اس کو مِنَ الْبِيْرِ الْعَمِيقِ، وَقُتِلَ الْمُتَنَبِّئُونَ بہرے کنوئیں سے نکالا اور جھوٹے مدعیان نبوت سخت بِأَشَرِ الأَلامِ، وَأُهْلِكَ الْمُرْتَدُّونَ عذاب کے ساتھ قتل کئے گئے اور مرتدین چوپایوں کی كَالْأَنْعَامِ، وَآمَنَ اللهُ الْمُؤْمِنِينَ مِن طرح ہلاک کر دیئے گئے۔اور اللہ نے مومنوں کو اس خَوْفٍ كَانُوا فِيهِ كَالْمَتِينَ وَكَانَ خوف سے امن دیا جس میں وہ مردوں کی طرح پڑے الْمُؤْمِنُونَ يَسْتَبْشِرُونَ بَعْدَ رَفع هذا ہوئے تھے اور مومن اس مصیبت کے دور ہوتے ہی الْعَذَابِ وَيُبَيِّتُونَ الصَّدِيقَ وَيَتَلفونه خوشیاں منانے لگے اور حضرت ابوبکر صدیق کو مبارک باد بِالتَّرْحَابِ، وَيَحْمَدُونَهُ وَيَدْعُونَ لَهُ مِن دینے لگے اور آپ کو مرحبا اور خوش آمدید کہتے اور آپ کی حَضْرَةِ رَبِّ الْأَرْبَابِ، وَبَادَرُوا إِلى تَعْظِیمِهِ تعریف کرتے تھے اور آپ کے لئے خدا تعالیٰ سے وَادَابِ تَكْرِيمِهِ، وَأَدْخَلُوا حُبَّهُ في دعائیں مانگتے تھے اور آپ کی تعظیم و تکریم میں جلدی تَامُوْرِهِمْ، وَاقْتَدَوْا بِهِ في تجميع أمورهم کرتے تھے اور آپ کی محبت اپنے دلوں میں بٹھاتے وَكَانُوا لَهُ شَاكِرِينَ وَصَقَلُوْا خَوَاطِرَهُمْ تھے اور تمام امور میں آپ کی اطاعت کرتے اور آپ وَسَقَوْا تَوَاضِرَهُمْ، وَزَادُوا حُبًّا، وَوَذُوا کے شکر گزار تھے اور انہوں نے اپنے دلوں کو جلا دی اور وَطَاوَعُوْهُ جُهْدًا وَجِدًّا وَكَانُوا يَحْسَبُونَهُ دل کے کھیتوں کو سیراب کیا اور آپ سے محبت میں بڑھ مُبَارَكًا وَمُؤَيَّدًا كَالنَّبِيْنَ وَكَانَ هَذَا گئے اور پوری کوشش سے آپ کی اطاعت کی۔اور وہ آپ من صني الصَّدِيقِ وَالْيَقِينِ کو مبارک اور انبیاء کی طرح مؤید سمجھا کرتے تھے اور یہ الْعَمِيقِ وَوَاللهِ إِنَّهُ كَانَ أدَمَ الثَّاني سب کچھ حضرت ابو بکر صدیق کی سچائی اور گہرے یقین لِلْإِسْلامِ، وَالْمَظْهَرَ الْأَوَّلَ لِأَنْوَارِ خَيْرِ پر قائم ہونے کے سبب سے تھا۔بخدا وہ اسلام کے آدم الْأَنامِ، وَمَا كَانَ نَبِيًّا وَلكِن كَانَتْ فِيهِ ثانی اور آنحضرت کے انوار کے لئے مظہر اول تھے۔گو قوَى الْمُرْسَلِینَ فَبِصِدْقِهِ عَادَتْ وہ نبی نہیں تھے لیکن ان میں انبیاء کے قومی پائے جاتے حَدِيقَةُ الْإِسْلَامِ إِلى زُخْرُفِةِ الثَّاقِ تھے اور آپ کے صدق کی بدولت اسلام کا باغ اپنی کامل كلة