تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 147
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۷ سورة النُّور ہے۔مثلاً اگر خط اخط آسے مساوی ہے اور خط خط ا سے مساوی تو ماننا پڑے گا کہ خط اخطا سے مساوی تو ہے اور یہی مدعا ہے۔اور ظاہر ہے کہ مشابہت من وجہ مغائرت کو چاہتی ہے اس لئے قبول کرنا پڑا کہ اسلام کا مسیح موعود حضرت عیسی علیہ السلام نہیں ہیں بلکہ اس کا غیر ہے۔اور عوام جو بار یک باتوں کو سمجھ نہیں سکتے اُن کے لئے اسی قدر کافی ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے دورسول ظاہر کر کے اُن کو دو مستقل شریعتیں عطا فرمائی ہیں۔ایک شریعت موسویہ۔دوسرکی شریعت محمدیہ اور ان دونوں سلسلوں میں تیرہ تیرہ خلیفے مقرر کئے ہیں اور درمیانی باران خلیے جو ان دونوں شریعتوں میں پائے جاتے ہیں وہ ہر دو نبی صاحب الشریعت کی قوم میں سے ہیں۔یعنی موسوی خلیفے اسرائیلی ہیں اور محمدی خلیفے قریشی ہیں مگر آخری دو خلیفے ان دونوں سلسلوں کے وہ ان ہر دو نبی صاحب الشریعت کی قوم میں سے نہیں ہیں۔حضرت عیسی اس لئے کہ ان کا کوئی باپ نہیں اور اسلام کے مسیح موعود کی نسبت جو آخری خلیفہ ہے خود علماء اسلام مان چکے ہیں کہ وہ قریش میں سے نہیں ہے اور نیز قرآن شریف فرماتا ہے کہ یہ دونوں مسیح ایک دوسرے کا عین نہیں ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں اسلام کے مسیح موعود کو موسوی مسیح موعود کا مثیل ٹھہراتا ہے نہ عین۔پس محمدی مسیح موعود کو موسوی مسیح کا عین قرار دینا قرآن شریف کی تکذیب ہے۔اور تفصیل اس استدلال کی یہ ہے کہ گما کا لفظ جو آیت كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قبلھم میں ہے جس سے تمام محمدی سلسلہ کے خلیفوں کی موسوی سلسلہ کے خلیفوں کے ساتھ مشابہت ثابت ہوتی ہے ہمیشہ مماثلت کے لئے آتا ہے اور مماثلت ہمیشہ من وجہ مغایرت کو چاہتی ہے یہ ممکن نہیں کہ ایک چیز اپنے نفس کی مثیل کہلائے بلکہ مشبہ اور مشبہ بہ میں کچھ مغایرت ضروری ہے اور عین کسی وجہ سے اپنے نفس کا مغایر نہیں ہو سکتا۔پس جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت موسیٰ کے مثیل ہو کر اُن کے عین نہیں ہو سکتے ایسا ہی تمام محمد ہی خلیفے جن میں سے آخری خلیفہ مسیح موعود ہے وہ موسوی خلیفوں کے جن میں سے آخری خلیفہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں کسی طرح عین نہیں ہو سکتے اس سے قرآن شریف کی تکذیب لازم آتی ہے کیونکہ گما کا لفظ جیسا کہ حضرت موسیٰ اور آنحضرت کی مشابہت کے لئے قرآن نے استعمال کیا ہے وہی گما کا لفظ آیت كما اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ میں وارد ہے جو اسی قسم کی مغائرت چاہتا ہے جو حضرت موسیٰ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں ہے۔یادر ہے کہ اسلام کا بارھواں خلیفہ جو تیرھویں صدی کے سر پر ہونا چاہئے وہ بیچی نبی کے مقابل پر ہے جس کا ایک پلید قوم کے لئے سر کاٹا گیا ( سمجھنے والا سمجھ لے ) اس لئے ضروری ہے کہ بارھواں خلیفہ قریشی ہو جیسا کہ حضرت یحیی اسرائیلی ہیں۔