تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 143 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 143

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۳ سورة النور گئے اور کوئی اختلاف نہ کیا اور سب نے اپنی اطاعت ظاہر کی یہی واقعہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو پیش آیا اور سب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی میں آنسو بہا کر دلی رغبت سے حضرت ابوبکر کی خلافت کو قبول کیا۔ غرض ہر ایک پہلو سے حضرت ابو بکر صدیق کی مشابہت حضرت یشوع بن نون علیہ السلام سے ثابت ہوئی ۔ خدا نے جس طرح حضرت یشوع بن نون کو اپنی وہ تائیدیں دکھلائیں کہ جو حضرت موسیٰ کو دکھلایا کرتا تھا ایسا ہی خدا نے تمام صحابہ کے سامنے حضرت ابوبکر کے کاموں میں برکت دی اور نبیوں کی طرح اس کا اقبال چمکا۔ اُس نے مفسدوں اور جھوٹے نبیوں کو خدا سے قدرت اور جلال پا کر قتل کیا تا کہ اصحاب رضی اللہ عنہم جانیں کہ جس طرح خدا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اس کے بھی ساتھ ہے۔ ایک اور عجیب مناسبت حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو حضرت یشوع بن نون علیہ السلام سے ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت یشوع بن نون کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد ایک ہولناک دریا سے جس کا نام پر دن ہے عبور مع لشکر کرنا پیش آیا تھا اور یردن میں ایک طوفان تھا اور عبور غیر ممکن تھا اور اگر اس طوفان سے عبور نہ ہوتا تو بنی اسرائیل کی دشمنوں کے ہاتھ سے تباہی متصور تھی اور یہ وہ پہلا امر ہولناک تھا جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد یشوع بن نون کو اپنے خلافت کے زمانہ میں پیش آیا اس وقت خدا تعالیٰ نے اس طوفان سے اعجازی طور پر یوشع بن نون اور اس کے لشکر کو بچا لیا اور پر دن میں خشکی پیدا کر دی جس سے وہ بآسانی گزر گیا وہ خشکی بطور جوار بھاٹا تھی یا محض ایک فوق العادة اعجاز تھا۔ بہر حال اس طرح خدا نے ان کو طوفان اور دشمن کے صدمہ سے بچایا اسی طوفان کی مانند بلکہ اس سے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر خلیفۃ الحق کو مع تمام جماعت صحابہ کے جو ایک لاکھ سے زیادہ تھے پیش آیا یعنی ملک میں سخت بغاوت پھیل گئی ۔ اور وہ عرب کے بادیہ نشین جن کو خدا نے فرمایا تھا قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَا ۖ قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوا وَ لكِنْ قُولُوا اسْلَمْنَا وَ لَمَّا يَدْخُلِ الْإِيْمَانُ فِي قُلُوبِكُمُ (سورة الحجرات: (۱۵) ضرور تھا کہ اس پیشگوئی کے مطابق وہ بگڑتے تا یہ پیشگوئی پوری ہوتی ۔ پس ایسا ہی ہوا اور وہ سب لوگ مرتد ہو گئے اور بعض نے زکوۃ سے انکار کیا اور چند شریر لوگوں نے پیغمبری کا دعوی کر دیا جن کے ساتھ کئی لاکھ بد بخت انسانوں کی جمعیت ہوگئی اور دشمنوں کا شمار اس قدر بڑھ گیا کہ صحابہ کی جماعت اُن کے آگے کچھ بھی چیز نہ تھی اور ایک سخت طوفان ملک میں بر پا ہوا یہ طوفان اُس خوفناک پانی سے بہت بڑھ کر تھا جس کا سامنا حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کو پیش آیا تھا اور جیسا کہ یوشع بن نون حضرت موسیٰ کی وفات کے بعد نا گہانی طور پر اس سخت ابتلا میں مبتلا ہو گئے تھے