تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 142 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 142

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۲ سورة النُّور کھڑے ہو گئے تھے اور ایسے وقت میں جو ایک بڑے مضبوط دل اور مستقل مزاج اور قومی الایمان اور دلاور اور بہادر خلیفہ کو چاہتا تھا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر کئے گئے اور ان کو خلیفہ ہوتے ہی بڑے غموں کا سامنا ہوا جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے کہ باعث چند در چند فتنوں اور بغاوت اعراب اور کھڑے ہونے جھوٹے پیغمبروں کے میرے باپ پر جبکہ وہ خلیفہ رسول اللہ صلعم مقرر کیا گیا وہ مصیبتیں پڑیں اور وہ غم دل پر نازل ہوئے کہ اگر وہ غم کسی پہاڑ پر پڑتے تو وہ بھی گر پڑتا اور پاش پاش ہو جا تا اور زمین سے ہموار ہو جاتا۔مگر چونکہ خدا کا یہ قانون قدرت ہے کہ جب خدا کے رسول کا کوئی خلیفہ اس کی موت کے بعد مقرر ہوتا ہے تو شجاعت اور ہمت اور استقلال اور فراست اور دل قوی ہونے کی رُوح اس میں پھونکی جاتی ہے جیسا کہ یشوع کی کتاب باب اول آیت ۶ میں حضرت یشوع کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مضبوط ہو اور دلاوری کر یعنی موسیٰ تو مر گیا اب تو مضبوط ہو جا۔یہی حکم قضا و قدر کے رنگ میں نہ شرعی رنگ میں حضرت ابوبکر کے دل پر بھی نازل ہوا تھا تناسب اور تشابہ واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ گویا ابوبکر بن قحافہ اور یشوع بن نون ایک ہی شخص ہے۔استخلافی مماثلت نے اس جگہ کس کر اپنی مشابہت دکھلائی ہے یہ اس لئے کہ کسی دو لمبے سلسلوں میں باہم مشابہت کو دیکھنے والے طبعا یہ عادت رکھتے ہیں کہ یا اول کو دیکھا کرتے ہیں اور یا آخر کو مگر دوسلسلوں کی درمیانی مماثلت کو جس کی تحقیق و تفتیش زیادہ وقت چاہتی ہے دیکھنا ضروری نہیں سمجھتے بلکہ اول اور آخر پر قیاس کر لیا کرتے ہیں اس لئے خُدا نے اس مشابہت کو جو یشوع بن نون اور حضرت ابو بکر میں ہے جو دونوں خلافتوں کے اوّل سلسلہ میں ہیں اور نیز اس مشابہت کو جو حضرت عیسی بن مریم اور اس اُمت کے مسیح موعود میں ہے جو دونوں خلافتوں کے آخر سلسلہ میں ہیں اجلی بدیہیات کر کے دکھلا دیا۔مثلاً یشوع اور ابوبکر میں وہ مشابہت درمیان رکھ دی کہ گویا وہ دونوں ایک ہی وجود ہے یا ایک ہی جو ہر کے دو ٹکڑے ہیں اور جس طرح بنی اسرائیل حضرت موسیٰ کی وفات کے بعد یوشع بن نون کی باتوں کے شنوا ہو خدا تعالیٰ کے حکم دو قسم کے ہوتے ہیں ایک شرعی جیسا یہ کہ تو خون نہ کر چوری نہ کر جھوٹی گواہی مت دے دوسری قسم حکم کی قضا و قدر کے حکم ہیں جیسا کہ یہ حکم کہ قُلْنَا يُنَارُ كُوني بردًا وَ سَلمًا عَلَى ابراھیم شرعی حکم میں محکوم کا تخاف حکم سے جائز ہے جیسا کہ بہتیرے باوجود حکم شرعی پانے کے خون بھی کرتے ہیں چوری بھی کرتے ہیں جھوٹی گواہی بھی دیتے ہیں مگر قضا و قدر کے حکم میں ہرگز تخلف جائز نہیں۔انسان تو انسان قدری حکم سے جمادات بھی تخلف نہیں کر سکتے کیونکہ جبروتی کشش اس کے ساتھ ہوتی ہے۔سوحضرت بیشوع کو خدا کا یہ حکم کہ مضبوط دل ہو جا قدری حکم تھا یعنی قضاء وقدر کاحکم وہی حکم حضرت ابوبکر کے دل پر بھی نازل ہوا تھا۔منہ *