تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 140 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 140

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۰ سورة النور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ ہو کر نہیں آئے بلکہ یہ خود موسیٰ بطور تناسخ آگیا ہے یا یہ دعویٰ کرے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دعوی صحیح نہیں ہے کہ توریت کی اس پیشگوئی کا میں مصداق ہوں بلکہ اس پیشگوئی کے معنی یہ ہیں کہ خود موسیٰ ہی آجائے گا جو بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے ہے ہے تو کیا اس فضول دعوے کا یہ جواب نہیں دیا جائے گا کہ قرآن شریف میں ہرگز بیان نہیں فرمایا گیا کہ خود موسی آئے گا بلکہ گما کے لفظ سے مثیل موسیٰ کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ پس یہی جواب ہماری طرف سے ہے کہ اس جگہ بھی سلسلہ خلفاء محمدی کے لئے گھا کا لفظ موجود ہے۔ اور یہ نص قطعی کلام الہی کی آفتاب کی طرح چمک کر ہمیں بتلا رہی ہے کہ سلسلہ خلافت محمدی کے تمام خلیفے خلفاء موسوی کے مثیل ہیں ۔ اسی طرح آخری خلیفہ جو خاتم ولایت محمد یہ ہے جو مسیح موعود کے نام سے موسوم ہے وہ حضرت عیسیٰ سے جو خاتم سلسلۂ نبوت موسویہ ہے مماثلت اور مشابہت رکھتا ہے۔ مثلاً دیکھو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو حضرت یوشع بن نون سے کیسی مشابہت ہے کہ انہوں نے ایسا ایک نا تمام کام لشکر اسامہ اور انبیاء کا ذبین کے مقابلہ کا پورا کیا جیسا کہ حضرت یوشع بن نون نے پورا کیا۔ اور آخری خلیفہ سلسلہ موسوی کا یعنی حضرت عیسیٰ جیسا کہ اُس وقت آیا جبکہ گلیل اور پیلاطوس کے علاقہ سے سلطنت یہود کی جاتی رہی تھی ایسا ہی سلسلہ محمدیہ کا مسیح ایسے وقت میں آیا کہ جب ہندوستان کی حکومت (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۷ ۱ صفحه ۱۲۳ تا ۱۲۸) مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل چکی ۔ جس آیت سے دونوں سلسلوں یعنی سلسلہ خلافت موسویہ اور سلسلہ خلافت محمدیہ میں مماثلت ثابت ہے یعنی جس سے قطعی اور یقینی طور پر سمجھا جاتا ہے کہ سلسلۂ نبوت محمد یہ کے خلیفے سلسلۂ نبوت موسویہ کے مشابہ و مماثل ہیں وہ یہ آیت ہے۔ وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمُ الخ یعنی خدا نے اُن ایمانداروں سے جو نیک کام بجالاتے ہیں وعدہ کیا ہے جو اُن میں سے زمین پر خلیفے مقرر کرے گا انہی خلیفوں کی مانند جو ان سے پہلے کئے تھے۔ اب جب ہم مانند کے لفظ کو پیش نظر رکھ کر دیکھتے ہیں جو محمدی خلیفوں کی موسوی خلیفوں سے مماثلت واجب کرتا ہے تو ہمیں ماننا پڑتا ہے جو ان دونوں سلسلوں کے خلیفوں میں مماثلت ضروری ہے اور مماثلت کی پہلی بنیاد ڈالنے والا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ہے اور مماثلت کا آخری نمونہ ظاہر کرنے والا وہ مسیح خاتم خلفاء محمد یہ ہے جو سلسلہ خلافت محمد یہ کا سب سے آخری خلیفہ ہے۔ سب سے پہلا خلیفہ جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہے وہ حضرت یوشع بن نون کے مقابل اور اُن کا مثیل ہے جس کو خدا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد خلافت