تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 140
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴ سورة النُّور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ ہو کر نہیں آئے بلکہ یہ خود موسیٰ بطور تناسخ آگیا ہے یا یہ دعوی کرے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دعوی صحیح نہیں ہے کہ توریت کی اس پیشگوئی کا میں مصداق ہوں بلکہ اس پیشگوئی کے معنے یہ ہیں کہ خود موسیٰ ہی آجائے گا جو بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے ہے تو کیا اس فضول دعوے کا یہ جواب نہیں دیا جائے گا کہ قرآن شریف میں ہرگز بیان نہیں فرمایا گیا کہ خود موسی آئے گا بلکہ گما کے لفظ سے مثیل موسیٰ کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔پس یہی جواب ہماری طرف سے ہے کہ اس جگہ بھی سلسلہ خلفاء محمدی کے لئے گھا کا لفظ موجود ہے۔اور یہ نص قطعی کلام الہی کی آفتاب کی طرح چمک کر ہمیں بتلا رہی ہے کہ سلسلہ خلافت محمدی کے تمام خلیفے خلفاء موسوی کے مثیل ہیں۔اسی طرح آخری خلیفہ جو خاتم ولایت محمد یہ ہے جو سیح موعود کے نام سے موسوم ہے وہ حضرت عیسی سے جو خاتم سلسلہ نبوت موسویہ ہے مماثلت اور مشابہت رکھتا ہے۔مثلاً دیکھو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حضرت یوشع بن نون سے کیسی مشابہت ہے کہ انہوں نے ایسا ایک نا تمام کام لشکر اسامہ اور انبیاء کا ذبین کے مقابلہ کا پورا کیا جیسا کہ حضرت یوشع بن نون نے پورا کیا۔اور آخری خلیفہ سلسلہ موسوی کا یعنی حضرت عیسی جیسا کہ اُس وقت آیا جبکہ تکمیل اور پیلاطوس کے علاقہ سے سلطنت یہود کی جاتی رہی تھی ایسا ہی سلسلہ محمدیہ کا مسیح ایسے وقت میں آیا کہ جب ہندوستان کی حکومت مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل چکی۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۱۲۳ تا ۱۲۸) جس آیت سے دونوں سلسلوں یعنی سلسلہ خلافت موسویہ اور سلسلہ خلافت محمدیہ میں مماثلت ثابت ہے یعنی جس سے قطعی اور یقینی طور پر سمجھا جاتا ہے کہ سلسلہ نبوت محمدیہ کے خلیفے سلسلہ نبوت موسویہ کے مشابہ و مماثل ہیں وہ یہ آیت ہے۔وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِم الخ یعنی خدا نے اُن ایمانداروں سے جو نیک کام بجالاتے ہیں وعدہ کیا ہے جو اُن میں سے زمین پر خلیفے مقرر کرے گا انہی خلیفوں کی مانند جو اُن سے پہلے کئے تھے۔اب جب ہم مانند کے لفظ کو پیش نظر رکھ کر دیکھتے ہیں جو محمدی خلیفوں کی موسوی خلیفوں سے مماثلت واجب کرتا ہے تو ہمیں ماننا پڑتا ہے جو ان دونوں سلسلوں کے خلیفوں میں مماثلث ضروری ہے اور مماثلت کی پہلی بنیاد ڈالنے والا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ہے اور مماثلت کا آخری نمونہ ظاہر کرنے والا وہ مسیح خاتم خلفاء محمد یہ ہے جو سلسلہ خلافت محمدیہ کا سب سے آخری خلیفہ ہے۔سب سے پہلا خلیفہ جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہے وہ حضرت یوشع بن نون کے مقابل اور اُن کا مثیل ہے جس کو خدا نے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد خلافت