تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 136
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۶ سورة النور اعْلَمُ أَنَّ الْمَسِيحَ الْمَوْعُودَ فِي جان لو کتاب اللہ میں جس مسیح موعود کے آنے کا وعدہ كِتَابِ اللهِ لَيْسَ هُوَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ دیا گیا ہے وہ صاحب انجیل اور خادم شریعت موسوی عیسی صَاحِبَ الْإِنْجِيلِ وَخَادِمَ الشَّرِيعَةِ ابن مریم نہیں جیسا کہ فی اعوج کے بعض جاہل لوگوں اور الْمُوْسَوِيَّةِ، كَمَا ظَنَّ بَعْضُ الْجُهَلَاءِ مِن غلط کار فرقہ میں سے بعض نے خیال کیا ہے بلکہ وہ خاتم الخلفاء الْفَيْحِ الْأَعْوَجِ وَالْفِئَةِ الْخَاطِئَةِ، بَلْ هُوَ اس امت میں سے ہوگا جیسا کہ حضرت عیسی علیہ السلام خَاتَمُ الْخُلَفَاءِ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ، كَمَا كَانَ خلفاء سلسلہ موسویہ کے خاتم تھے اور اس عمارت کی وہ عِيسَى خَاتَمَ خُلَفَاءِ السّلْسِلَةِ آخری اینٹ اور اس سلسلہ کے آخری مرسل تھے اور یقیناً الْكَلِيمِيَّةِ، وَكَانَ لَهَا كَاخِرِ اللَّبِنَةِ یہی بات سچی ہے۔ ان لوگوں کے لئے ہلاکت ہے جو وَخَاتَمَ الْمُرْسَلِينَ۔ وَإِنَّ هَذَا لَهُوَ الْحَقُّ قرآن تو پڑھتے ہیں پھر اس سے منکروں کی طرح اعراض فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ يَقْرَءُ وَنَ الْقُرْآنَ ثُمَّ يَمُرُونَ کرتے ہوئے گزر جاتے ہیں ۔ قرآن کریم نے اس مسئلہ مُنْكَرِيْنَ۔ وَإِنَّ الْفُرْقَانَ قَدْ حَكَمَ بَيْنَ کے بارے میں جھگڑا کرنے والوں کے درمیان فیصلہ کر الْمُتَنَازِعِينَ فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ، فَإِنَّهُ دیا ہے اور منکم کے لفظ سے سورۃ نور میں صراحت کر صَرَّحَ فِي سُورَةِ النُّورِ بِقَوْلِهِ مِنْكُمْ بِأَنَّ دی ہے کہ خاتم الائمہ امت محمدیہ میں سے ہی ہوگا۔ ( ترجمه از مرتب ) خَاتَمَ الْأَئِمَّةِ مِنْ هَذِهِ الْمِلَّةِ (خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۳۰۹) منجملہ دلائل قویہ قطعیہ کے جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں جو مسیح موعود اسی اُمتِ محمدیہ میں سے ہوگا قرآن شریف کی یہ آیت ہے وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِم الخ یعنی خدا تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے جو ایماندار ہیں اور نیک کام کرتے ہیں وعدہ فرمایا ہے جو ان کو زمین پر انہی خلیفوں کی مانند جو اُن سے پہلے گزر چکے ہیں خلیفے مقرر فرمائے گا اس آیت میں پہلے خلیفوں سے مراد حضرت موسیٰ کی امت میں سے خلیفے ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی شریعت کو قائم کرنے کے لئے پے درپے بھیجا تھا اور خاص کر کسی صدی کو ایسے خلیفوں سے جو دین موسوی کے مجدد تھے خالی نہیں جانے دیا تھا اور قرآن شریف نے ایسے خلیفوں کا شمار کر کے ظاہر فرمایا ہے کہ وہ باراں ہیں اور تیرھواں حضرت عیسی علیہ السلام ہیں جو موسوی شریعت کا مسیح موعود ہے۔ اور اس