تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 121 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 121

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۱ سورة النُّور ۱۹ اتنے روز کے پھر رکھے۔تم ایک دوسرے کے مال کو ناحق کے طور پر مت کھاؤ اور تم تقوی اختیار کر و ا فلاح ۲۶ ۲۴ پاؤ اور تم خدا کی راہ میں ان سے جو تم سے لڑیں لڑ ولیکن حد سے مت بڑھو اور کوئی زیادتی مت کرو کہ خدا زیادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا اور تم خدا کی راہ میں خرچ کرو اور دانستہ اپنے تئیں ہلاکت میں مت ڈالو۔اور لوگوں سے احسان کرو کہ خدا محسنین کو دوست رکھتا ہے اور حج اور عمرہ کو اللہ کے واسطے پورا کرو اور اپنے پاس تو شہ رکھو کہ تو شہ میں یہ فائدہ ہے کہ تم کسی دوسرے سے سوال نہیں کرو گے یعنی سوال ایک ذلت ہے اس سے بچنے کے لئے تدبیر کرنی چاہئے اور تم صلح اور اسلام میں داخل ہو۔اور مشرکا سے نکاح مت کرو جب تک ایمان نہلا دیں اور مشرکین سے اسے عور تو تم نکاح مت کرو جب تک ایمان نہ لاویں اور اپنے ۱ نفسوں کے لئے کچھ آگے بھیجو اور خدا تعالیٰ کو اپنی قسموں کا عرضہ مت بناؤ اور عورتوں کو دکھ دینے کی غرض سے بند مت رکھو اور جو لوگ تم میں سے فوت ہو جائیں اور جو روئیں رہ جائیں تو وہ چار مہینے اور دس دن نکاح ۳۲ ۳۵ ۲۹ کرنے سے رکی رہیں۔اگر تم طلاق دو تو عورتوں کو احسان کے ساتھ رخصت کرو۔اگر تمہیں خوف ہو تو نماز پیروں سے چلتے چلتے یا سوار ہونے کی حالت میں پڑھ لو۔اگر اپنے صدقات لوگوں کو دکھلا کے دو تو یہ عموماً اچھی بات ہے کہ تالوگ تمہارے نیک کاموں کی پیروی کریں اور اگر چھپا کر محتاجوں کو دو تو یہ تمہارے نفسوں کے لئے بہتر ہے جب تم کسی کو قرضہ دو تو ایک نوشت لکھ لو اور قرض ادا کرنے میں خدا سے ڈرو اور کچھ باقی مت رکھو اور جب تم کوئی خرید و فروخت کرو تو اس پر گواہ رکھ لو۔اور اگر تم سفر میں ہو اور کوئی کا تب نہ ملے تو کوئی جائیداد قبضہ میں کر لو تم سب مل کر خدا کی رسی سے پنجہ مارو اور با ہم پھوٹ مت ڈالو۔تم میں سے ایسے ۴۳ بھی ہونے چاہئیں کہ جو امر معروف اور نہبی منکر کریں۔تم خدا کی مغفرت کی طرف دوڑو اور اگر تم میں سے کسی کی بیوی فوت ہو جاوے تو وہ اس کی جائیداد میں سے نصف کا مالک ہے بشرطیکہ اس کی کچھ اولا د نہ ہو اور اگر اولاد ہو تو پھر اس کو چہارم حصہ جائیداد بعد عمل بر وصیت پہنچے گا۔یہ چند احکام بطور نمونہ ہم نے لکھے ہیں اس میں ایک تھوڑی سی عقل کا آدمی بھی سوچ سکتا ہے کہ بظاہر یہ تمام خطاب صحابہ کی طرف ہے لیکن در حقیقت تمام مسلمان ان احکام پر عمل کرنے کے لئے مامور ہیں نہ یہ کہ صرف صحابہ مامور ہیں وبس۔غرض قرآن کا اصلی اور حقیقی اسلوب جس سے سارا قرآن بھرا پڑا ہے یہ ہے کہ اس کے خطاب کے مورد حقیقی اور واقعی طور پر تمام وہ مسلمان ہیں جو قیامت تک پیدا ہوتے رہیں گے گو بظاہر صورت خطاب صحابہ کی طرف راجمع معلوم ہوتا ہے پس جو شخص یہ دعوی کرے کہ یہ وعدہ یا وعید صحابہ تک ہی