تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 118 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 118

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام مشغول ہو جائے پس اللہ غفور رحیم ہے۔ ۱۱۸ سورة النور (۱۰) فَمَا جَزَاءُ مَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ مِنْكُمْ إِلَّا خِزْيٌ فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا ۚ وَ يَوْمَ الْقِيمَةِ يُرَدُّونَ إِلَى أَشَدَّ الْعَذَابِ (البقرة : ۸۶) یعنی جو شخص تم میں سے ایسا کام کرے دُنیا کی زندگی میں اُس کو رسوائی ہو گی اور قیامت کو اُس کے لئے سخت عذاب ہے۔ (11) وَ إِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا (مریم : (۱۶) یعنی تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو دوزخ میں وارد نہ ہو۔ (۱۲) وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ ( الحجر : ۲۵ ) یعنی ہم اُن لوگوں کو جانتے ہیں جو تم میں سے آگے بڑھنے والے ہیں اور جو پیچھے رہنے والے ہیں۔ اب ان تمام مقامات کو دیکھو کہ مِنْكُمْ کا لفظ تمام مسلمانوں کے لئے عام ہے خواہ اس وقت موجود تھے خواہ بعد میں قیامت تک آتے جائیں ایسا ہی تمام دوسرے مقامات میں بجز دو تین موضعوں کے عام طور پر استعمال ہوا ہے اور تمام احکام میں بظاہر صورت مخاطب صحابہ ہی ہیں لیکن تخصیص صحابہ بجز قیام قرینہ کے جائز نہیں ۔ ورنہ ہر یک فاسق عذر کر سکتا ہے کہ صوم اور صلوۃ اور حج اور تقویٰ اور طہارت اور اجتناب عن المعاصی کے متعلق جس قدر احکام ہیں ان احکام کے مخاطب صرف صحابہ ہی تھے اس لئے ہمیں نماز روزہ وغیرہ کی پابندی لازم نہیں اور ظاہر ہے کہ ایسے کلمات بجز ایک زندیق کے اور کوئی خدا ترس آدمی زبان پر نہیں لاسکتا۔ اگر کسی کے دل میں یہ خیال گزرے کہ اگر آیت وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا فائدہ عموم کا دیتی ہے یعنی مقصود اصلی تعمیم تھی نہ تخصیص۔ تو پھر منکم کا لفظ اس جگہ کیوں زیادہ کیا گیا۔ اور اس کی زیادت کی ضرورت ہی کیا تھی صرف اس قدر فرمایا ہوتا کہ وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِم تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ وعدہ ان ایمانداروں اور نیکوکاروں کے مقابل پر تھا جو اس اُمت سے پہلے گزر چکے ہیں پس گویا تفصیل اس آیت کی یوں ہے کہ خدا تعالیٰ نے تم سے پہلے ان لوگوں کو روئے زمین پر خلیفے مقرر کیا تھا جو ایماندار اور صالح تھے اور اپنے ایمان کے ساتھ اعمال صالح جمع ت حسنہ سے رکھتے تھے اور خدا تعالیٰ وعدہ کرتا ہے کہ تم میں سے بھی اے مسلمانو ایسے لوگوں کو جو انہیں صفات۔ موصوف ہوں اور ایمان کے ساتھ اعمال صالح جمع رکھتے ہوں خلیفے کرے گا پس مِنكُم کا لفظ زائد نہیں بلکہ اس سے غرض یہ ہے کہ تا اسلام کے ایمانداروں اور نیکوکاروں کی طرف اشارہ کرے کیونکہ جبکہ نیکو کار اور ایماندار کا لفظ اس آیت میں پہلی امتوں اور اس اُمت کے ایمانداروں اور نیکوکاروں پر برابر حاوی تھا پھر اگر