تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page xv
xiv نمبر شمار مضمون صفحه ۱۰۳ اگر تم یہ چاہتے ہو کہ بعینہ عیسی نازل ہو تو تم نے قرآن کریم کو جھٹلا دیا اور تم ۱۵۱ ۱۵۵ ۱۶۱ ۱۶۹ ۱۷۰ ۱۷۲ ۱۷۵ ۱۷۶ ۱۷۷ ۱۷۸ ۱۷۹ نے سورۃ نور سے کوئی نور حاصل نہیں کیا مسیلمہ کے ساتھ قریباً ایک لاکھ جاہل اور فاجر لوگ شامل ہوئے اور فتنوں نے جوش مارا اور مصائب بڑھ گئے گیا کا لفظ جس مشابہت کو چاہتا ہے اس میں زمانہ کی مشابہت بھی داخل ہے اللہ علیہ وسلم در حقیقت ایسے آئے تھے جس وقت میں ایک آنحضرت صلی سچے اور کامل نبی کو آنا چاہیے نبی نیکوں کے لئے بشیر ہوتے ہیں اور بدوں کے لئے نذیر یہ بہت بڑی غلط نہی ہے کہ تقدیر کے لفظ کو ایسے طور پر سمجھا جائے کہ گویا انسان اپنے خدا دا دقوئی سے محروم رہنے کے لئے مجبور کیا جاتا تقدیر دو قسم کی ہوتی ہے ایک کا نام معلق ہے اور دوسری کو مبرم کہتے ہیں اگر کوئی تقدیر معلق ہو تو دعا اور صدقات اس کو ٹلا دیتے ہیں دعا ، صدقہ و خیرات سے عذاب کا ٹلنا ایسی ثابت شدہ حقیقت ہے جس پر ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی کا اتفاق ہے اکثر ایک تقدیر جو معلق ہوا کرتی ہے ایسی بار یک رنگ میں ہوتی ہے کہ اس کو سرسری نظر سے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مبرم ہے تقدیر مبرم کی دو اقسام ہیں ایک مبرم حقیقی اور ایک مبرم غیر حقیقی - مبر حقیقی ٹل نہیں سکتی غیر حقیقی مل سکتے ہیں ہمارے تجربہ میں آیا ہے اہل اللہ قرب الہی میں ایسے مقام تک جا پہنچتے ہیں جبکہ ربانی رنگ بشریت کے رنگ و بوکو ۔۔۔۔ اپنے رنگ کے نیچے متواری کر لیتا ہے الد ۱۰۵ ١٠٦ ۱۰۷ ۷۰۱ ۱۰۹ ۱۱۰ ۱۱۱ ۱۱۲ ۱۱۳