تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 106
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 1+7 سورة النُّور تِجَارَةٌ وَلَا بَيْع کوئی تجارت اور خرید و فروخت ان کو غافل نہیں کرتی اور انسان کا کمال بھی یہی ہے کہ دنیوی کاروبار میں بھی مصروفیت رکھے اور پھر خدا کو بھی نہ بھولے۔وہ ٹوکس کام کا ہے جو بر وقت بوجھ لادنے کے بیٹھ جاتا ہے اور جب خالی ہو تو خوب چلتا ہے وہ قابل تعریف نہیں۔وہ فقیر جود نیوی کاموں سے گھبرا کر گوشہ نشین بن جاتا ہے وہ ایک کمزوری دکھلاتا ہے۔اسلام میں رہبانیت نہیں۔ہم کبھی نہیں کہتے کہ عورتوں کو اور بال بچوں کو ترک کر دو اور دنیوی کاروبار کو چھوڑ دو نہیں۔بلکہ ملازم کو چاہیے کہ اپنی ملازمت کے فرائض ادا کرے اور تاجرا اپنی تجارت کے کاروبار کو پورا کرے لیکن دین کو مقدم رکھے۔اس کی مثال خود دنیا میں موجود ہے کہ تاجر اور ملازم لوگ باوجود اس کے کہ وہ اپنی تجارت اور ملازمت کو بہت عمدگی سے پورا کرتے ہیں پھر بھی بیوی بچے رکھتے ہیں اور ان کے حقوق برابر ادا کرتے ہیں۔ایسا ہی ایک انسان ان تمام مشاغل کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حقوق کو ادا کر سکتا ہے اور دین کو دنیا پر مقدم رکھ کر بڑی عمدگی سے اپنی زندگی گزار سکتا ہے۔( بدر جلد ۶ نمبر ۱۱ مورخہ ۱۴/ مارچ ۱۹۰۷ ء صفحہ ۶) ہمارے ایسے بندے بھی ہیں جو بڑے بڑے کارخانہ تجارت میں ایک دم کے لئے بھی ہمیں نہیں بھولتے خدا سے تعلق رکھنے والا دنیا دار نہیں کہلاتا۔( بدر جلدے نمبر ا مورخه ۹/جنوری ۱۹۰۸ء صفحه ۱۰) ہم یہ نہیں کہتے کہ زراعت والا زراعت کو اور تجارت والا تجارت کو۔ملازمت والا ملازمت کو اور صنعت و حرفت والا اپنے کاروبار کو ترک کر دے اور ہاتھ پاؤں تو ڑ کر بیٹھ جائے بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ لا تُلهيهم تجَارَةٌ وَلَا بَيْعَ عَنْ ذِكْرِ اللهِ والا معاملہ ہو۔دست با کار دل با یار والی بات ہو۔تاجر اپنے کاروبار تجارت میں اور زمیندار اپنے امور زراعت میں اور بادشاہ اپنے تخت حکومت پر بیٹھ کر۔غرض جو جس کام میں ہے اپنے کاموں میں خدا کو نصب العین رکھے اور اس کی عظمت اور جبروت کو پیش نظر رکھ کر اس کے احکام اور اوامر و نواہی کا لحاظ رکھتے ہوئے جو چاہے کرے۔اللہ سے ڈر اور سب کچھ کر۔اسلام کہاں ایسی تعلیم دیتا ہے کہ تم کا روبار چھوڑ کر لنگڑے اولوں کی طرح لکھے بیٹھ ر ہو اور بجائے اس کے کہ اوروں کی خدمت کرو خود دوسروں پر بوجھ بنو نہیں بلکہ سست ہونا گناہ ہے بھلا ایسا آدمی پھر خدا اور اس کے دین کی کیا خدمت کر سکے گا۔عیال واطفال جو خدا نے اس کے ذمے لگائے ہیں ان کو کہاں سے کھلائے گا۔پس یا درکھو کہ خدا کا یہ ہرگز منشاء نہیں کہ تم دنیا کو بالکل ترک کر دو بلکہ اس کا جو منشاء ہے وہ یہ ہے کہ قد أَفْلَحَ مَنْ زَكتها تجارت کرو، زراعت کرو، ملازمت کرو اور حرفت کرو۔جو چاہو کرو مگر نفس کو خدا کی نافرمانی