تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 104 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 104

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۴ سورة النُّور اول اللہ نور اپا یا قدرت کے سب بندے اک نور سے سب جنگ الجھا کون بھلے کون مندے یعنی خدا تعالیٰ نے ایک نور پیدا کر کے اس نور سے تمام کائنات کو پیدا کیا۔پس پیدائش کی رو سے تمام ارواح نوری ہیں یعنی نیک و بد کا اعمال سے فرق پیدا ہوتا ہے ورنہ باعتبار خلقت ظلمت محض کوئی بھی پیدا نہیں کیا گیا۔ہر ایک میں نور کا ذرہ مخفی ہے اس میں باوا صاحب نے آیت اللهُ نُورُ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ سے اقتباس کیا ہے اس لئے اللہ اور نور کا لفظ شعر میں قائم رہنے دیا تا اقتباس پر دلالت کرے اور نیز حدیث أوّلُ ما خَلَقَ اللهُ نُوری کی طرف بھی اس شعر میں اشارہ کیا ہے۔(ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۱۲۷،۱۲۶) خدا ہی ہے جو ہر دم آسمان کا نور اور زمین کا نور ہے اس سے ہر ایک جگہ روشنی پڑتی ہے آفتاب کا وہی آفتاب ہے زمین کے تمام جانداروں کی وہی جان ہے۔سچا زندہ خدا وہی ہے۔مبارک وہ جو اس کو قبول اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۴۴) کرے۔اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کا نور ہے۔ہر ایک نور اسی کے نور کا پر تو ہے۔ایام اصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۴۷) فَلَها ثَبَتَ أَنَّ رَبَّنَا هُوَ نُورُ كُلِّ شَيْءٍ مِن اور جبکہ ثابت ہوا کہ ہمارا خدا ہر یک چیز کا نور اور الْأَشْيَاء وَمُنِيرٌ مَّا فِي الْأَرْضِ وَالسَّمَاء زمین اور آسمان کا روشن کرنے والا ہے تو ثابت ہو گیا ثَبَتَ أَنَّهُ الْمُفِيْضُ مِنْ جَميع الأنحاء و کہ وہی ہر یک طرح سے مبدء جمیع فیوض ہے اور وہی خَالِقُ الرَّقِيعِ وَالْغَبَرَاء وَ هُوَ أَحْسَنُ زمین و آسمان کا خالق اور احسن الخالقین ہے اس نے دو الْخَالِقِينَ۔وَإِنَّهُ اَعْطَى الْعَيْنَيْنِ وَ خَلَقَ آنکھیں دیں اور زبان اور ہونٹ دیئے اور بچہ کو اللسان والشَّفَتَيْنِ۔وَهَدَى الرَّضِيعَ إلَى پستانوں کی طرف ہدایت دی اور کوئی ایسا کمال انسانی التَّجْدَيْنِ۔وَمَا غَادَرَ مِنْ كَمَالِ مَطلُوبِ اٹھانہ رکھا جس کی طرف انسان کو حاجت ہے اور ہر یک مطلوب احسن طور سے ادا کیا۔( ترجمہ اصل کتاب سے ) إِلَّا أَعْطَاهَا بِأَحْسَنِ أَسْلُوْبٍ (منن الرحمن ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۱۹۹،۱۹۸) خدا اصل نور ہے۔ہر ایک نور زمین و آسمان کا اسی سے نکلا ہے پس خدا کا نام استعارہ پت رکھنا اور ہر ایک نور کی جڑ اس کو قرار دینا اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انسانی روح کا خدا سے کوئی بھاری علاقہ ہے۔(نسیم دعوت، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۳۸۷،۳۸۶)