تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 103 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 103

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۳ سورة النُّور دوسرے کو نہیں ہوتی۔اور خدا مسائل دقیقہ کو مثالوں کے پیرایہ میں بیان فرماتا ہے تا حقائق عمیقہ قریب با افہام ہو جائیں۔مگر وہ اپنے علم قدیم سے خوب جانتا ہے کہ کون ان مثالوں کو سمجھے گا اور حق کو اختیار کرے گا اور کون محروم اور مخذول رہے گا ) پس اس مثال میں جس کا یہاں تک جلی قلم سے ترجمہ کیا گیا۔خدا تعالیٰ نے پیغمبر علیہ السلام کے دل کو شیشہ مصفی سے تشبیہ دی جس میں کسی نوع کی کدورت نہیں۔یہ نور قلب ہے۔پھر آنحضرت کے فہم و ادراک و عقل سلیم اور جمیع اخلاق فاضلہ جبلی و فطرتی کو ایک لطیف تیل سے تشبیہ دی جس میں بہت سی چمک ہے اور جو ذریعہ روشنی چراغ ہے یہ نور عقل ہے کیونکہ منبع و منشاء جمیع لطائف اندرونی کا قوت عقلیہ ہے۔پھر ان تمام نوروں پر ایک نور آسمانی کا جو وحی ہے نازل ہونا بیان فرمایا۔یہ نور وحی ہے۔اور انوار ثلاث مل کر لوگوں کی ہدایت کا موجب ٹھہرے۔یہی حقانی اصول ہے جو وحی کے بارہ میں قدوس قدیم کی طرف سے قانون قدیم ہے اور اس کی ذات پاک کے مناسب۔پس اس تمام تحقیقات سے ثابت ہے کہ جب تک نور قلب ونور عقل کسی انسان میں کامل درجہ پر نہ پائے جائیں تب تک وہ نو روحی ہرگز نہیں پاتا اور پہلے اس سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ کمال عقل و کمال نورانیت قلب صرف بعض افراد بشریہ میں ہوتا ہے کل میں نہیں ہوتا۔اب ان دونوں ثبوتوں کے ملانے سے یہ امر بپایہ ثبوت پہنچ گیا کہ وحی اور رسالت فقط بعض افراد کا ملہ کو ملتی ہے نہ ہر یک فرد بشر کو۔( براہین احمدیہ چہار صص، روحانی خزائن جلد اصفحه ۱۹۱، ۱۹۸ حاشیه ) يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ عنقریب ہے کہ اس کا تیل خود بخو د روشن ہو جائے اگر چہ آگ اس کو چھو بھی نہ جائے۔(براہین احمدیہ چہار صص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۵۹۲ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) اللهُ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ یعنی خدا آسمان وزمین کا نور ہے۔اسی سے طبقہ سفلی اور علوی میں حیات اور بقاء کی روشنی ہے۔اس کا نور قدرت ساری زمین و آسمان اور ذرہ ذرہ کے اندر چمک رہا ہے۔پرانی تحریریں، روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۱۹) (شحنه حق ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۳۹۸) باوا صاحب ( نانک۔ناقل ) کے گرنتھ پر غور کرنے والوں پر یہ بات پوشیدہ نہیں کہ ویدوں کے ان اصولوں سے باوا صاحب نے صاف انکار کر دیا ہے جن کو سچائی کے مطابق نہیں پایا۔مثلاً ویدوں کے رو سے تمام ارواح اور ذرات غیر مخلوق اور انادی ہیں لیکن باو اصاحب کے نزدیک تمام ذرات اور ارواح مخلوق ہیں جیسا کہ وہ فرماتے ہیں۔