تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 102 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 102

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۲ سورة النور نور فطرتی کا کامل اور عظیم الشان ہونا شرط ہے صرف انبیاء کو ملا اور انہیں سے مخصوص ہوا۔ پس اب اس حجت موجہ سے کہ جو مثال مقدم الذکر میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ۔ بطلان ان لوگوں کے قول کا ظاہر ہے جنہوں نے با وصف اس کے کہ فطرتی تفاوت مراتب کے قائل ہیں ۔ پھر محض حمق و جہالت کی راہ سے یہ خیال کر لیا ہے کہ جو نور افراد کامل الفطرت کو ملتا ہے وہی نور افراد نا قصہ کو بھی مل سکتا ہے۔ ان کو دیانت اور انصاف سے سوچنا چاہئے کہ فیضان وحی کے بارہ میں کس قدر غلطی میں وہ مبتلا ہو رہے ہیں ۔ صریح دیکھتے ہیں کہ خدا کا قانون قدرت ان کے خیال باطل کی تصدیق نہیں کرتا۔ پھر شدت تعصب و عناد سے اسی خیال فاسد پر جمے بیٹھے ہیں ۔ ایسا ہی عیسائی لوگ بھی نور کے فیضان کے لئے فطرتی نور کا شرط ہونا نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ جس دل پر نو روحی نازل ہو۔ اس کے لئے اپنے کسی خاصہ اندرونی میں نورانیت کی حالت ضروری نہیں بلکہ اگر کوئی بجائے عقل سلیم کے کمال درجہ کا نادان اور سفیہ ہو اور بجائے صفت شجاعت کے کمال درجہ کا بزدل اور بجائے صفت سخاوت کے کمال درجہ کا بخیل اور بجائے صفت حمیت کے کمال درجہ کا بے غیرت اور بجائے صفت محبت الہیہ کے کمال درجہ کا محب دنیا اور بجائے صفت زہد و ورع وامانت کے بڑا بھارا چور اور ڈاکو اور بجائے صفت عفت و حیا کے کمال درجہ کا بے شرم اور شہوت پرست اور بجائے صفت قناعت کے کمال درجہ کا حریص اور لالچی۔ تو ایسا شخص بھی بقول حضرات عیسائیاں با وصف ایسی حالت خراب کے خدا کا نبی اور مقرب ہو سکتا ہے۔ بلکہ ایک مسیح کو باہر نکال کر دوسرے تمام انبیاء جن کی نبوت کو بھی وہ مانتے ہیں اور ان کی الہامی کتابوں کو بھی مقدس مقدس کر کے پکارتے ہیں وہ نعوذ باللہ بقول ان کے ایسے ہی تھے اور کمالات قدسیہ سے جو مستلزم قصمت و یاک دلی ہیں محروم تھے۔ عیسائیوں کی عقل اور خدا شناسی پر بھی ہزار آفرین - کیا اچھا نو روحی کے نازل ہونے کا فلسفہ بیان کیا مگر ایسے فلسفہ کے تابع ہونے والے اور اس کو پسند کرنے والے وہی لوگ ہیں جو سخت ظلمت اور کور باطنی کی حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔ ورنہ نور کے فیض کے لئے نور کا ضروری ہونا ایسی بدیہی صداقت ہے کہ کوئی ضعیف العقل بھی اس سے انکار نہیں کر سکتا۔ مگر ان کا کیا علاج جن کو عقل سے کچھ بھی سروکار نہیں اور جو کہ روشنی سے بغض اور اندھیرے سے پیار کرتے ہیں اور چمگادڑ کی طرح رات میں ان کی آنکھیں خوب کھلتی ہیں لیکن روز روشن میں وہ اندھے ہو جاتے ہیں ) خدا اپنے نور کی طرف ( یعنی قرآن شریف کی طرف ) جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور لوگوں کے لئے مثالیں بیان کرتا ہے اور وہ ہر یک چیز کو بخوبی جانتا ہے (یعنی ہدایت ایک امر منجانب اللہ ہے۔ اسی کو ہوتی ہے جس کو عنایت از لی سے توفیق حاصل ہو۔