تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 100
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة النُّور کہ ہر یک وحی نبی منزل علیہ کی فطرت کے موافق نازل ہوتی ہے۔جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مزاج میں جلال اور غضب تھا۔تو ریت بھی موسوی فطرت کے موافق ایک جلالی شریعت نازل ہوئی۔حضرت مسیح علیہ السلام کے مزاج میں حلم اور نرمی تھی۔سوانجیل کی تعلیم بھی حلم اور نری پر مشتمل ہے۔مگر آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج بغایت درجہ وضع استقامت پر واقعہ تھانہ ہر جگہ علم پسند تھا اور نہ ہر مقام غضب مرغوب خاطر تھا۔بلکہ حکیمانہ طور پر رعایت محل اور موقعہ کی ملحوظ طبیعت مبارک تھی۔سوقرآن شریف بھی اسی طر ز موزون و معتدل پر نازل ہوا کہ جامع شدت و رحمت و هیبت و شفقت و نرمی و درشتی ہے۔سو اس جگہ اللہ تعالیٰ نے ظاہر فرمایا کہ چراغ وحی فرقان اس شجرہ مبارکہ سے روشن کیا گیا ہے کہ نہ شرقی ہے اور نہ غربی۔یعنی طینت معتدلہ محمدیہ کے موافق نازل ہوا ہے جس میں نہ مزاج موسوی کی طرح درشتی ہے۔نہ مزاج عیسوی کی مانند نرمی۔بلکہ درشتی اور نرمی اور قہر اور لطف کا جامع ہے۔اور مظہر کمال اعتدال اور جامع بین الجلال والجمال ہے اور اخلاق معتدلہ فاضلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کہ جو جمعیت عقل لطیف روغن ظہور روشنی وحی قرار پائی۔ان کی نسبت ایک دوسرے مقام میں بھی اللہ تعالیٰ نے آنحضرت کو مخاطب کر کے فرمایا ہے اور وہ یہ ہے إِنَّكَ لَعَلیٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ (القلم : ۵) الجز نمبر ۲۹ یعنی تو اے نبی ایک خلق عظیم پر مخلوق ومفطور ہے یعنی اپنی ذات میں تمام مکارم اخلاق کا ایسا ستم و یکمل ہے کہ اس پر زیادت متصور نہیں کیونکہ لفظ عظیم محاورہ عرب میں اس چیز کی صفت ستم میں بولا جاتا ہے جس کو اپنا نوعی کمال پورا پورا حاصل ہو۔مثلاً جب کہیں کہ یہ درخت عظیم ہے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ جس قدر طول و عرض درخت میں ہو سکتا ہے وہ سب اس میں موجود ہے۔اور بعضوں نے کہا ہے کہ عظیم وہ چیز ہے جس کی عظمت اس حد تک پہنچ جائے کہ حیطہ اور اک سے باہر ہو۔اور خلق کے لفظ سے قرآن شریف اور ایسا ہی دوسری کتب حکمیہ میں صرف تازہ روی اور حسنِ اختلاط یا نرمی و تلطف و ملائمت جیسا عوام الناس خیال کرتے ہیں ) مراد نہیں ہے بلکہ خلق بفتح خا اور ملق بضم خاد ولفظ ہیں جو ایک دوسرے کے مقابل واقعہ ہیں۔خلق بفتح خا سے مراد وہ صورت ظاہری ہے جو انسان کو حضرت واہب الصور کی طرف سے عطا ہوئی۔جس صورت کے ساتھ وہ دوسرے حیوانات کی صورتوں سے ممیز ہے۔اور خلق بضم خا سے مراد وہ صورت باطنی یعنی خواص اندرونی ہیں جن کی رو سے حقیقت انسانیہ حقیقت حیوانیہ سے امتیاز کلی رکھتی ہے۔پس جس قدر انسان میں من حیث الانسانیت اندرونی خواص پائے جاتے ہیں اور شجرہ انسانیت کو نچوڑ کر نکل سکتے ہیں جو کہ انسان اور حیوان میں من حیث الباطن ما بہ الامتیاز ہیں۔اُن سب کا نام خلق ہے۔اور چونکہ شجر کہ فطرت انسانی