تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 100 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 100

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۰ سورة النور 6 کہ ہر یک وحی نبی منزل علیہ کی فطرت کے موافق نازل ہوتی ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مزاج میں جلال اور غضب تھا۔ توریت بھی موسوی فطرت کے موافق ایک جلالی شریعت نازل ہوئی ۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے مزاج میں حلم اور نرمی تھی ۔ سو انجیل کی تعلیم بھی حلم اور نرمی پر مشتمل ہے۔ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج بغایت درجہ وضع استقامت پر واقعہ تھا نہ ہر جگہ حلم پسند تھا اور نہ ہر مقام غضب مرغوب خاطر تھا۔ بلکہ حکیمانہ طور پر رعایت محل اور موقعہ کی ملحوظ طبیعت مبارک تھی ۔ سوقر آن شریف بھی اسی طر ز موزون و معتدل پر نازل ہوا کہ جامع شدت و رحمت و ہیبت و شفقت و نرمی و درشتی ہے۔ سو اس جگہ اللہ تعالیٰ نے ظاہر فرمایا کہ چراغ وحی فرقان اس شجرہ مبارکہ سے روشن کیا گیا ہے کہ نہ شرقی ہے اور نہ غربی ۔ یعنی طینت معتدلہ محمد یہ کے موافق نازل ہوا ہے جس میں نہ مزاج موسوی کی طرح درشتی ہے۔ نہ مزاج عیسوی کی مانند نرمی ۔ بلکہ درشتی اور نرمی اور قہر اور لطف کا جامع ہے۔ اور مظہر کمال اعتدال اور جامع بین الجلال والجمال ہے اور اخلاق معتدله فاضلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کہ جو بمعیت عقل لطیف روغن ظہور روشنی وحی قرار پائی۔ ان کی نسبت ایک دوسرے مقام میں بھی اللہ تعالیٰ نے آنحضرت کو مخاطب کر کے فرمایا ہے اور وہ یہ ہے إِنَّكَ لَعَلیٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ (القلم : ۵) الجزء نمبر ۲۹ یعنی تو اے نبی ایک خلق عظیم پر مخلوق و مفطور ہے یعنی اپنی ذات میں تمام مکارم اخلاق کا ایسا متم و مکمل ہے کہ اس پر زیادت متصور نہیں کیونکہ لفظ عظیم محاورہ عرب میں اس چیز کی صفت میں بولا جاتا ہے جس کو اپنا نوعی کمال پورا پورا حاصل ہو۔ مثلاً جب کہیں کہ یہ درخت عظیم ہے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ جس قدر طول و عرض درخت میں ہو سکتا ہے وہ سب اس میں موجود ہے۔ اور بعضوں نے کہا ہے کہ عظیم وہ چیز ہے جس کی عظمت اس حد تک پہنچ جائے کہ حیطۂ ادراک سے باہر ہو۔ اور خلق کے لفظ سے قرآن شریف اور ایسا ہی دوسری کتب حکمیہ میں صرف تازہ روی اور حسن اختلاط یا نرمی و تلطف و ملائمت ( جیسا عوام الناس خیال کرتے ہیں ) مراد نہیں ہے بلکہ خلق بفتح خا اور خلق بضم خاد و لفظ ہیں جو ایک دوسرے کے مقابل واقعہ ہیں۔ خلق بفتح خا سے مراد وہ صورت ظاہری ہے جو انسان کو حضرت واہب الصور کی طرف سے عطا ہوئی۔ جس صورت کے ساتھ وہ دوسرے حیوانات کی صورتوں سے ممیز ہے۔ اور خلق بضم خا سے مراد وہ صورت باطنی یعنی خواص اندرونی ہیں جن کی رو سے حقیقت انسانیہ حقیقت حیوانیہ سے امتیاز کلی رکھتی ہے۔ پس جس قدر انسان میں من حیث الانسانیت اندرونی خواص پائے جاتے ہیں اور شجرہ انسانیت کو نچوڑ کر نکل سکتے ہیں جو کہ انسان اور حیوان میں من حیث الباطن مابہ الامتیاز ہیں ۔ اُن سب کا نام خُلق ہے۔ اور چونکہ شجرۂ فطرت انسانی