تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 99 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 99

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۹ سورة النُّور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے دوسروں پر ہرگز نہیں ہوتا۔اور چونکہ وہ فیضان ایک نہایت باریک صداقت ہے اور دقائق حکمیہ میں سے ایک دقیق مسئلہ ہے۔اس لئے خداوند تعالیٰ نے اول فیضان عام کو ( جو بدیہی الظہو ر ہے ) بیان کر کے پھر اس فیضان خاص کو بغرض اظہار کیفیت نور حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ایک مثال میں بیان فرمایا ہے کہ جو اس آیت سے شروع ہوتی ہے۔مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكُوةٍ فِيهَا مِصْبَاحُ الخ اور بطور مثال اس لئے بیان کیا کہ تا اس دقیقہ نازک کے سمجھنے میں ابہام اور دقت باقی نہ رہے۔کیونکہ معانی معقولہ کو صور محسوسہ میں بیان کرنے سے ہر یک نجمی و بلید بھی بآسانی سمجھ سکتا ہے۔بقیہ ترجمہ آیات ممدوحہ یہ ہے۔اس نور کی مثال ( فرد کامل میں جو پیغمبر ہے ) یہ ہے جیسے ایک طاق ( یعنی سینه مشروح حضرت پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم ) اور طاق میں ایک چراغ ( یعنی وحی اللہ ) اور چراغ ایک شیشہ کی قندیل میں جو نہایت مصفی ہے۔(یعنی نہایت پاک اور مقدس دل میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دل ہے جو کہ اپنی اصل فطرت میں شیشہ سفید اور صافی کی طرح ہر یک طور کی کثافت اور کدورت سے منزہ اور مطہر ہے۔اور تعلقات ماسوی اللہ سے بکلی پاک ہے ) اور شیشہ ایسا صاف کہ گویا ان ستاروں میں سے ایک عظیم النورستارہ ہے جو کہ آسمان پر بڑی آب و تاب کے ساتھ چمکتے ہوئے نکلتے ہیں جن کو کو کب دری کہتے ہیں ( یعنی حضرت خاتم الانبیاء کا دل ایسا صاف کہ کوکب دری کی طرح نہایت منور اور درخشندہ جس کی اندرونی روشنی اس کے بیرونی قالب پر پانی کی طرح بہتی ہوئی نظر آتی ہے ) وہ چراغ زیتون کے شجرہ مبارکہ سے ( یعنی زیتون کے روغن سے ) روشن کیا گیا ہے ( فجرہ مبارکہ زیتون سے مراد وجو د مبارک محمدی ہے کہ جو بوجہ نہایت جامعیت و کمال انواع واقسام کی برکتوں کا مجموعہ ہے جس کا فیض کسی جہت و مکان و زمان سے مخصوص نہیں۔بلکہ تمام لوگوں کے لئے عام على سبيل الدوام ہے اور ہمیشہ جاری ہے کبھی منقطع نہیں ہوگا ) اور شجرہ مبارکہ نہ شرقی ہے نہ غربی (یعنی طینت پاک محمدی میں نہ افراط ہے نہ تفریط۔بلکہ نہایت توسط واعتدال پر واقع ہے اور احسن تقویم پر مخلوق ہے۔اور یہ جو فرمایا کہ اس شجرہ مبارکہ کے روغن سے چراغ وحی روشن کیا گیا ہے۔سور وفن سے مراد معقل لطیف نورانی محمدی معہ جمیع اخلاق فاضلہ فطرتیہ ہے جو اس عقل کامل کے چشمہ صافی سے پروردہ ہیں۔اور وحی کا چراغ لطائف محمد یہ سے روشن ہونا ان معنوں کر کے ہے کہ ان لطائف قابلہ پر وحی کا فیضان ہوا اور ظہور وحی کا موجب وہی ٹھہرے۔اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ فیضانِ وحی ان لطائف محمدیہ کے مطابق ہوا۔اور انہیں اعتدالات کے مناسب حال ظہور میں آیا کہ جو طینت محمدیہ میں موجود تھی۔اس کی تفصیل یہ ہے