تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 97
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۷ سورة النُّور وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحًا حَتَّى يُغْنِيَهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَالَّذِيْنَ يَبْتَغُونَ الكِتب مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُم إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا وَ أتُوهُمْ مِنْ مَالِ اللهِ الَّذِى الكُمْ وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيْتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنَّا لِتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا ۖ وَمَنْ يُكْرِهَهُنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِنْ بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ ۳۴ غفور رحيم ® جو لوگ نکاح کی طاقت نہ رکھیں جو پرہیز گار رہنے کا اصل ذریعہ ہے تو ان کو چاہئے کہ اور تدبیروں سے طلب عفت کریں چنانچہ بخاری اور مسلم کی حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو نکاح کرنے پر قادر نہ ہو اس کے لئے پر ہیز گار رہنے کے لئے یہ تدبیر ہے کہ وہ روزے رکھا کرے اور حدیث یہ ب يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَ لَ فَلْيَتَزَوَّجُ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءَ صحیح مسلم و بخاری یعنی اے جوانوں کے گروہ جو کوئی تم میں سے نکاح کی قدرت رکھتا ہو تو چاہئے کہ وہ نکاح کرے کیونکہ نکاح آنکھوں کو خوب نیچا کر دیتا ہے اور شرم کے اعضاء کو زنا وغیرہ سے بچاتا ہے ورنہ روزہ رکھو کہ وہ خصی کر دیتا ہے۔اب ان آیات اور حدیث اور بہت سی اور آیات سے ثابت ہے کہ نکاح سے شہوت رانی غرض نہیں بلکہ بد خیالات اور بدنظری اور بدکاری سے اپنے تئیں بچانا اور نیز حفظ صحت بھی غرض ہے۔( آریہ دھرم، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۲، ۲۳) جس کو نکاح میسر نہ آوے چاہئے کہ وہ اپنی عفت کو دوسرے طریقوں سے بچاوے۔مثلا روزہ رکھے یا کم کھاوے یا اپنی طاقتوں سے تن آزار کام لے اور اور لوگوں نے یہ بھی طریق نکالے ہیں کہ وہ ہمیشہ عمداً نکاح سے دست بردار ر ہیں یا خو جے بنیں اور کسی طریق سے رہبانیت اختیار کریں۔مگر ہم نے انسان پر یہ حکم فرض نہیں کئے اس لئے وہ ان بدعتوں کو پورے طور پر نبھا نہ سکے۔خدا کا یہ فرمانا کہ ہمارا یہ حکم نہیں کہ لوگ خوجے بنیں۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ اگر خدا کا حکم ہوتا تو سب لوگ اس حکم پر عمل کرنے کے مجاز بنتے تو اس صورت میں بنی آدم کی قطع نسل ہو کر کبھی کا دنیا کا خاتمہ ہو جاتا۔اور نیز اگر اس طرح پر عفت حاصل کرنی ہو کہ عضو مردمی کو کاٹ دیں تو یہ در پردہ اس صانع پر اعتراض ہے جس نے وہ عضو بنایا اور نیز جبکہ