تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 96
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۶ سورة النُّور میں کچھ حرج نہیں آنکھیں کھلی رہتی ہیں۔ریویو آف ریلیجر، جلد ۴ نمبر صفحہ ۱۷ ماه جنوری ۱۹۰۵ء) وَاَنْكِحُوا الْأَيَا فى مِنْكُمْ وَالصَّلِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَا بِكُمْ إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ (٣٣ اگر کسی عورت کا خاوند مر جائے تو گو وہ عورت جوان ہی ہو دوسرا خاوند کرنا ایسا برا جانتی ہے جیسا کوئی بڑا بھارا گناہ ہوتا ہے اور تمام عمر بیوہ اور رانڈ رہ کر یہ خیال کرتی ہے کہ میں نے بڑے ثواب کا کام کیا ہے اور پاک دامن بیوی ہو گئی ہوں حالانکہ اس کے لئے بیوہ رہنا سخت گناہ کی بات ہے۔عورتوں کے لئے بیوہ ہونے کی حالت میں خاوند کر لینا نہایت ثواب کی بات ہے۔ایسی عورت حقیقت میں بڑی نیک بخت اور ولی ہے جو بیوہ ہونے کی حالت میں برے خیالات سے ڈر کر کسی سے نکاح کرلے اور نابکار عورتوں کے لعن طعن سے نہ ڈرے۔ایسی عورتیں جو خدا اور رسول کے حکم سے روکتی ہیں خود لعنتی اور شیطان کی چیلیاں ہیں جن کے ذریعہ سے شیطان اپنا کام چلاتا ہے۔جس عورت کو اللہ ، رسول پیارا ہے اس کو چاہیے کہ بیوہ ہونے کے بعد کوئی ایماندار اور نیک بخت خاوند تلاش کرے اور یا در کھے کہ خاوند کی خدمت میں مشغول رہنا بیوہ ہونے کی حالت کے وظائف سے صدہا درجہ بہتر ہے۔الخام جلد ۶ نمبر ۲۴ مورخہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۰۲ صفحه ۷ ) بیوہ کے نکاح کا حکم اسی طرح ہے جس طرح کہ باکرہ کے نکاح کا حکم ہے۔چونکہ بعض قو میں بیوہ عورت کا نکاح خلاف عزت خیال کرتے ہیں اور یہ بد رسم بہت پھیلی ہوئی ہے اس واسطے بیوہ کے نکاح کے واسطے حکم ہوا ہے لیکن اس کے یہ معنے نہیں کہ ہر بیوہ کا نکاح کیا جاوے نکاح تو اسی کا ہوگا جو نکاح کے لائق ہے اور جس کے واسطے نکاح ضروری ہے۔بعض عورتیں بوڑھی ہو کر بیوہ ہوتی ہیں۔بعض کے متعلق دوسرے حالات ایسے ہوتے ہیں کہ وہ نکاح کے لائق نہیں ہو تیں مثلاً کسی کو ایسا مرض لاحق حال ہے کہ وہ قابل نکاح ہی نہیں یا ایک بیوہ کافی اولاد اور تعلقات کی وجہ سے ایسی حالت میں ہے کہ اس کا دل پسند ہی نہیں کر سکتا کہ وہ اب دوسرا خاوند کرے۔ایسی صورتوں میں مجبوری نہیں کہ عورت کو خواہ مخواہ جکڑ کر خاوند کرایا جاوے۔ہاں اس بد رسم کو مٹادینا چاہیے کہ بیوہ عورت کو ساری عمر بغیر خاوند کے جبر رکھا جاتا ہے۔( بدر جلد ۶ نمبر ۴۱ مورخه ۱۰ /اکتوبر ۱۹۰۷ صفحه ۱۱)