تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 90
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۰ سورة النور مومنوں کو کہہ دے کہ نامحرم اور محل شہوت کے دیکھنے سے اپنی آنکھیں اس قدر بند رکھیں کہ پوری صفائی سے چہرہ نظر نہ آسکے اور نہ چہرہ پر کشادہ اور بے روک نظر پڑ سکے اور اس بات کے پابند رہیں کہ ہرگز آنکھ کو پورے طور پر کھول کر نہ دیکھیں نہ شہوت کی نظر سے اور نہ بغیر شہوت سے کیونکہ ایسا کرنا آخر ٹھوکر کا باعث ہے یعنی بے قیدی کی نظر سے نہایت پاک حالت محفوظ نہیں رہ سکتی اور آخر ابتلاء پیش آتا ہے اور دل پاک نہیں ہو سکتا جب تک آنکھ پاک نہ ہو۔ اور وہ مقام از کی جس پر طالب حق کے لئے قدم مارنا مناسب ہے حاصل نہیں ہو سکتا اور اس آیت میں یہ بھی تعلیم ہے کہ بدن کے ان تمام سوراخوں کو محفوظ رکھیں جن کی راہ سے بدی داخل ہوسکتی ہے۔ سوراخ کے لفظ میں جو آیت مدوح میں مذکور ہے آلات شہوت اور کان اور ناک اور منہ سب داخل ہیں ۔ اب دیکھو کہ یہ تمام تعلیم کس شان اور پایہ کی ہے جو کسی پہلو پر نامعقول طور پر افراط یا تفریط سے زور نہیں ڈالا گیا اور حکیمانہ اعتدال سے کام لیا گیا ہے اور اس آیت کا پڑھنے والا فی الفور معلوم کر لے گا کہ اس حکم سے جو کھلے کھلے نظر ڈالنے کی عادت نہ ڈالو یہ مطلب ہے کہ تا لوگ کسی وقت فتنہ میں مبتلا نہ ہو جائیں اور دونوں طرف مرد اور عورت میں سے کوئی فریق ٹھوکر نہ کھاوے لیکن انجیل میں جو بیقیدی اور کھلی آزادی دی گئی اور صرف انسان کی مخفی نیت پر مدار رکھا گیا ہے اس تعلیم کا نقص اور خامی ایسا امر نہیں ہے کہ اس کی تصریح کی کچھ ضرورت ہو۔ تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۱۶۴، ۱۶۵) مومنوں کو کہہ دے مرد ہوں یا عورتیں ہوں کہ اپنی آنکھوں کو غیر عورتوں اور مردوں کی طرف دیکھنے سے روکو اور کانوں کو غیر مردوں کی ناجائز آواز اور غیر کی آواز سننے سے روکو اور اپنے ستر گاہوں کی حفاظت کرو کہ اس طریق سے تم پاک ہو جاؤ گے۔ اب اے آریہ صاحبان انصاف سے سوچو کہ قرآن شریف تو اس بات سے بھی منع کرتا ہے کہ کوئی مرد غیر عورت پر نظر ڈالے اور یا عورت غیر مرد پر نظر ڈالے یا اس کی آواز ناجائز طور پر سنے مگر آپ لوگ خوشی سے اپنی بیویوں کو غیر مردوں سے ہم بستر کراتے ہیں اس کا نام نیوگ رکھتے ہیں۔ کس قدر ان دونوں تعلیموں میں فرق ہے۔ خود سوچ لیں۔ (نسیم دعوت ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۴۵، ۴۴۶) قرآن نے چونکہ کل مل اور فرقوں کو زیر نظر رکھ لیا تھا اور تمام ضرورتیں اس تک پہنچ کر ختم ہو گئی تھیں اس لئے قرآن نے عقائد کو بھی اور احکام عملی کو بھی مدل کیا چنانچہ قرآن فرماتا ہے قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ یعنی مومنوں سے کہہ دے کہ اپنے ستر کو آنکھ پھاڑ کر نہ دیکھیں اور باقی تمام