تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 79
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷۹ سورة المؤمنون اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ اَحْسَنُ السَّيِّئَةَ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَصِفُونَ ) خدا تعالیٰ قرآن شریف میں پیش دستی کر کے لڑائی کرنا ایک سخت مجرمانہ فعل قرار دیتا ہے بلکہ مومنوں کو جا بجا صبر کا حکم دیا ہے جیسا کہ وہ اس آیت میں فرماتا ہے ادفع بالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَ بَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَانَكَ وَلِيٌّ حَيه (حم السجدة : ۳۵) یعنی تیرا دشمن جو تجھ سے بدی کرتا ہے اس کا مقابلہ نیکی کے ساتھ کر۔اگر تو نے ایسا کیا تو وہ تیرا ایسا دوست ہو جائے گا کہ گو یا رشتہ دار بھی ہے۔دو چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۹۵) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ۱۳ برس تک جو رو ستم سہنے پڑے اور پھر مدافعت کا حکم دیا گیا۔اذن لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا (الج :۴۰) سے ظاہر ہے کہ پہلے جواب تک دینے کا بھی حکم نہیں تھا اس لئے دو اصل فرمائے ایک تو و آغرِضُ عَنِ الْجهلِين جن لوگوں میں جہالت کا مادہ ہو۔جو تکبر سے بھرے ہوئے جھگڑالو ہوں۔ان سے اعراض کرنا چاہیے۔ان کی باتوں کا جواب ہی نہ دیا جاوے دوم ادفع بِالَّتِی هيَ أَحْسَن یعنی بدی کے مقابلہ میں نیکی کرنا جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دوست بن جاتا ہے اور وہ دوست بھی ایسا کہ كَانَهُ وَلِيٌّ حَمِيم - ( بدر جلد ۶ نمبر ۱۵ مورخه ۱۱ارا پریل ۱۹۰۷ صفحه ۶) حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ لى لَعَلى أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ كَلاَ إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَابِلُهَا وَمِنْ وَرَابِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ یعنی جب کافروں میں سے ایک کو موت آتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ اے میرے رب مجھ کو پھر دنیا میں بھیج تا ہو کہ میں نیک عمل کروں اور تدارک مافات مجھے سے ہو سکے تو اس کو کہا جاتا ہے کہ یہ ہرگز نہیں ہوگا۔یہ صرف اس کا قول ہے یعنی خدا تعالیٰ کی طرف سے ابتداء سے کوئی بھی وعدہ نہیں کہ مردہ کو پھر دنیا میں بھیجے اور پھر آگے فرمایا کہ جو لوگ مر چکے ہیں ان میں اور دنیا میں ایک پردہ ہے جس کی وجہ سے وہ قیامت تک دنیا کی طرف رجوع نہیں کر سکتے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۱۹ حاشیه در حاشیه ) فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ فَلَا أَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَبِةٍ وَلَا يَتَسَاءَلُونَ۔خدا تعالی کی آواز تو ہمیشہ آتی ہے مگر مردوں کی نہیں آتی۔اگر کبھی کسی مردے کی آواز آتی ہے تو خدا تعالیٰ