تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 77
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام LL ہو سکتی تھی۔وہ تو وہاں رہ سکتے ہی نہ تھے۔اس لئے لازمی طور پر انہوں نے ہجرت کی۔سورة المؤمنون (احکام جلد ۹ نمبر ۵ ۳مورخه ۱۰ را کتوبر ۱۹۰۵ صفحه ۵) ياَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ ۵۲ پاک چیزیں کھاؤ اور پاک عمل کرو۔اس آیت میں حکم جسمانی صلاحیت کے انتظام کے لئے ہے جس کے لئے محموا من الطیبت کا ارشاد ہے اور دوسرا حکم روحانی صلاحیت کے انتظام کے لئے ہے جس کے لئے وَاعْمَلُوا صَالِحًا کا ارشاد ہے اور ان دونوں کے مقابلہ سے ہمیں یہ دلیل ملتی ہے کہ بدکاروں کے لئے عالم آخرت کی سزا ضروری ہے کیونکہ جبکہ ہم دنیا میں جسمانی پاکیزگی کے قواعد کو ترک کر کے فی الفور کسی بلا میں گرفتار ہو جاتے ہیں اس لئے یہ امر بھی یقینی ہے کہ اگر ہم روحانی پاکیزگی کے اصول کو ترک کریں گے تو اسی طرح موت کے بعد بھی کوئی عذاب مولم ضرور ہم پر وارد ہو گا۔جو وباء کی طرح ہمارے ہی اعمال کا نتیجہ ہوگا۔ایام اصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۳۳۸) اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کفارہ کچھ چیز نہیں بلکہ جیسا کہ ہم اپنے جسمانی بدطریقوں سے وباء کو اپنے پر لے آتے ہیں اور پھر حفظ صحت کے قواعد کی پابندی سے اس سے نجات پاتے ہیں۔یہی قانونِ قدرت ہمارے روحانی عذاب اور نجات سے وابستہ ہے۔ایام صلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۳۳۸ حاشیه ) قرآن شریف تو خلوا من الطيبت کی تعلیم دے اور یہ لوگ طیب عمدہ چیز میں خاک ڈال کر غیر طیب بنا دیں۔اس قسم کے مذاہب اسلام کے بہت عرصہ بعد پیدا ہوئے ہیں۔یہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اضافہ کرتے ہیں۔ان کو اسلام سے اور قرآن کریم سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔یہ خود اپنی شریعت الگ قائم کرتے ہیں۔میں اس کو سخت حقارت اور نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسوہ حسنہ ہیں۔ہماری بھلائی اور خوبی یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو آپ کے نقش قدم پر چلیں اور اس کے خلاف کوئی قدم نہ اٹھا ئیں۔الحکم جلدے نمبر ۱۳ مورخہ ۱۰ را پریل ۱۹۰۳ صفحه ۲) فَتَقَطَّعُوا أَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ زُبُرا كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ ۵۴ فطرت ایسی چیز نہیں جو مستقل طور پر ہادی ہو سکے کیونکہ وہ شیطان کے قائم مقام مضل بھی تو ہو جاتی ہے۔