تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 76
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة المؤمنون یعنی ہم نے عیسی اور اس کی ماں کو ایک ایسے ٹیلے پر پناہ دی جو آرام کی جگہ تھی اور ہر ایک دشمن کی دست درازی سے دور تھی اور پانی اُس کا بہت خوشگوار تھا۔یادر ہے کہ اوی کا لفظ عربی زبان میں اس جگہ بولا جاتا ہے جب ایک مصیبت کے بعد کسی شخص کو پناہ دیتے ہیں ایسی جگہ میں جو دار الامان ہوتا ہے پس وہ دار الامان ملک شام نہیں ہوسکتا کیونکہ ملک شام قیصر روم کی عملداری میں تھا۔اور حضرت عیسی قیصر کے باغی قرار پاچکے تھے۔پس وہ کشمیر ہی تھا جو شام کے ملک سے مشابہ تھا اور قرار کی جگہ تھی۔یعنی امن کی جگہ تھی یعنی قیصر روم کو اس سے کچھ تعلق نہ تھا۔برائین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۴۰۲ تا ۴۰۵) اوی کا لفظ عرب کی زبان میں اس موقع پر استعمال پاتا ہے جبکہ کسی قدر تکلیف کے بعد کسی شخص کو اپنی پناہ میں لیا جائے جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے اَلَمْ يَجِدُكَ يَتِيماً فاوى ( الضُّحى : 4 ) اور جیسا کہ فرماتا ہے اوينهما إِلَى رَبِّوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَ مَعِينٍ (حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۹۷ حاشیه ) خدا کا کلام قرآن شریف گواہی دیتا ہے کہ وہ (حضرت عیسی علیہ السلام۔ناقل ) مرگیا اور اس کی قبر سرینگر کشمیر میں ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَأوَيْنَهُمَا إِلى رَبوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَ مَعِينٍ یعنی ہم نے عیسی اور اس کی ماں کو یہودیوں کے ہاتھوں سے بچا کر ایک ایسے پہاڑ میں پہنچا دیا جو آرام اور خوشحالی کی جگہ تھی اور مصفا پانی کے چشمے اس میں جاری تھے سو وہی کشمیر ہے۔اسی وجہ سے حضرت مریم کی قبر زمین شام میں کسی کو معلوم نہیں اور کہتے ہیں کہ وہ بھی حضرت عیسی کی طرح مفقود ہے۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۰۴ حاشیه ) ہم نے عیسی اور اس کی ماں کو بعد اس کے جو یہودیوں نے ان پر ظلم کیا اور حضرت عیسی کو سولی دینا چاہا ہم نے عیسی اور اس کی ماں کو پناہ دی اور دونوں کو ایک ایسے پہاڑ پر پہنچا دیا جو سب پہاڑوں سے اونچا تھا یعنی کشمیر کا پہاڑ جس میں خوشگوار پانی تھا اور بڑی آسائش اور آرام کی جگہ تھی۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۴۳) أوَيْنَهُمَا إِلى رَبوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَ مَعِينٍ کے متعلق بعض کہتے ہیں کہ وہ شام ہی میں تھا میں کہتا ہوں یہ بالکل غلط ہے۔قرآن شریف خود اس کے مخالف ہے اس لئے کہ اوی کا لفظ تو اس جگہ استعمال ہوتا ہے جہاں ایک مصیبت کے بعد نجات ملے اور پناہ دی جاوے۔یہ بات اس رومی سلطنت میں رہ کر انہیں کب حاصل