تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 75 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 75

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷۵ سورة المؤمنون مشتمل ہے جو کشمیر میں اب تک پائے جاتے ہیں۔اور کشمیر کی تاریخی کتابیں جو ہم نے بڑی محنت سے جمع کی ہیں جو ہمارے پاس موجود ہیں ان سے بھی مفصلاً یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک زمانہ میں جو اس وقت شمار کی رو سے دو ہزار برس کے قریب گزر گیا ہے ایک اسرائیلی نبی کشمیر میں آیا تھا جو بنی اسرائیل میں سے تھا اور شاہزادہ نبی کہلاتا تھا۔اس کی قبر محلہ خان یار میں ہے جو یوز آسف کی قبر کر کے مشہور ہے۔اب ظاہر ہے کہ یہ کتا بیں تو میری پیدائش سے بہت پہلے کشمیر میں شائع ہو چکی ہیں۔پس کیوں کر کوئی خیال کر سکتا ہے کہ کشمیریوں نے افترا کے طور پر یہ کتا بیں لکھی تھیں۔ان لوگوں کو اس افترا کی کیا ضرورت تھی اور کس غرض کے لئے انہوں نے ایسا افترا کیا ؟ اور عجیب تریہ کہ وہ لوگ اب تک اپنی کمال سادہ لوحی سے دوسرے مسلمانوں کی طرح یہی اعتقادر کھتے ہیں کہ حضرت عیسی آسمان پر مع جسم عصری چلے گئے تھے اور پھر باوجود اس اعتقاد کے پورے یقین سے اس بات کو جانتے ہیں کہ ایک اسرائیلی نبی کشمیر میں آیا تھا کہ جو اپنے تئیں شہزادہ نبی کر کے مشہور کرتا تھا۔اور ان کی کتابیں بتلاتی ہیں کہ شمار کی رو سے اس زمانہ کو اب انیس سو برس سے کچھ زیادہ برس گزر گئے ہیں۔اس جگہ کشمیریوں کی سادہ لوحی سے ہمیں یہ فائدہ حاصل ہوا ہے کہ اگر وہ اس بات کا علم رکھتے کہ شاہزادہ نبی بنی اسرائیل میں کون تھا اور وہ نبی کون ہے جس کو اب انہیں سو برس گزر گئے تو وہ کبھی ہمیں یہ کتابیں نہ دکھلاتے۔اس لئے میں کہتا ہوں کہ ہم نے ان کی سادہ لوحی سے بڑا فائدہ اٹھایا۔ماسوا اس کے وہ لوگ شہزادہ نبی کا نام یوز آسف بیان کرتے ہیں یہ لفظ صریح معلوم ہوتا ہے کہ یسوع آسف کا بگڑا ہوا ہے۔آسف عبرانی زبان میں اس شخص کو کہتے ہیں کہ جو قوم کو تلاش کرنے والا ہو چونکہ حضرت عیسی اپنی اس قوم کو تلاش کرتے کرتے جو بعض فرقے یہودیوں میں سے گم تھے کشمیر میں پہنچے تھے اس لئے انہوں نے اپنا نام یسوع آسف رکھا تھا اور یوز آسف کی کتاب میں صریح لکھا ہے کہ یوز آسف پر خدا تعالیٰ کی طرف سے انجیل اتری تھی۔پس باوجود اس قدر دلائل واضحہ کے کیوں کر اس بات سے انکار کیا جائے کہ یوز آسف در اصل حضرت عیسی علیہ السلام ہے ورنہ یہ بار ثبوت ہمارے مخالفوں کی گردن پر ہے کہ وہ کون شخص ہے جو اپنے تئیں شاہزادہ نبی ظاہر کرتا تھا جس کا زمانہ حضرت عیسی کے زمانہ سے بالکل مطابق ہے اور یہ پتہ بھی ملا ہے کہ جب حضرت عیسی کشمیر میں آئے تو اس زمانہ کے بدھ مذہب والوں نے اپنی پستکوں میں ان کا کچھ ذکر کیا ہے۔ایک اور قومی دلیل اس بات پر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اوینهُمَا إِلَى رَبوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَ مَعِينٍ