تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 72
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام تِلْكَ ۷۲ سورة المؤمنون الإستقرار في تلك الخطة بالامن خطہ کشمیر میں امن و عافیت کے ساتھ بغیر کسی مخالف کی وَالْعَافِيَةِ مِنْ غَيْرِ مُزَاحَمَةِ الكَفَرَةِ مزاحمت کے اندیشے کے رہائش اختیار کرنے پر دلالت الْفَجَرَةِ وَلَا شَكَ أَنَّ عِیسَی عَلَيْهِ کرتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت عیسی علیہ السَّلَامُ مَا كَانَ لَهُ قَرَارُ في أَرْضِ الشَّامِ السلام کے لئے ملک شام میں کوئی آرام کی جگہ نہ تھی اور وَكَانَ يُخْرِجُهُ مِنْ أَرْضِ إِلى أَرْضِ الْيَهُودُ بد بخت کمینے یہودی آپ کو ایک علاقے سے دوسرے الَّذِينَ كَانُوا مِنَ الْأَشْقِيَاءِ وَاللّقامِ فَمَا علاقے کی طرف نکلنے پر مجبور کر دیتے تھے۔پس خطہ کشمیر رَأَى قَرَارًا إِلَّا فِي خِطَةِ كَشْبِیرٌ وَإِلَيْهِ کے سوا انہیں کہیں امن و عافیت کی جگہ نہ ملی اور اسی کی طرف أَشَارَ في هَذِهِ الْآيَةِ رَبُّنَا الْخَبِيرُ وَأَمَّا ہمارے رب خبیر نے مذکورہ آیت میں اشارہ فرمایا ہے۔الْمَاءُ الْمُعِيْنُ فَهِيَ إِشَارَةٌ إِلى عُيُونٍ ماء معين کے الفاظ سے ان صاف و شفاف اور بہنے صَافِيَةٍ وَيَنَابِيعَ مُنْفَجَرَةٍ تُوجد في هذهِ والے چشموں کی طرف اشارہ ہے جو اس علاقے میں الْخِطَةِ وَلِذَالِكَ شَبَّةَ النَّاسُ تِلْكَ پائے جاتے ہیں اور اسی وجہ سے لوگوں نے کشمیر کو جنت الْأَرْضِ بِالْجَنَّةِ نظیر قرار دیا ہے۔( ترجمہ از مرتب) الهدى و التبصرة لمن يرى ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۳۶۶ تا ۳۶۹) اعْلَمُ أن لفظ الإيواء بِأَحَدٍ من جاننا چاہیے کہ لفظ ایواء اپنے اشتقاق کے لحاط مُشْتَقَاتِهِ قَدْجَاءَ فِي كَثِيرِ مِن مَّوَاضِح سے قرآن کریم میں کئی جگہ استعمال ہوا ہے اور سب الْقُرْآنِ وَكُلُّهَا ذَكَرَ فِي فَحَلِ الْعَصْمِ مِنَ جگہ بطریق احسان بلاء سے نجات دینے کے معنے الْبَلَاءِ بِطَرِيقِ الْاِمْتِنَانِ كَمَا قَالَ اللهُ میں آیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اَلَمْ يَجِدُكَ تَعَالى اَلَمْ يَجِدُكَ يَتِيماً فَأَوَى وَمَا أَرَادَ يَتنما فاوى - اس آیت میں اوی کے لفظ میں تکلیف مِنْهُ إِلَّا الْإِراحَةَ بَعْد الأذى وَقَالَ فی کے بعد آرام پہنچانے کے معنے ہی مراد ہیں۔ایک اور مَقَامٍ أَخَرَ اِذْ اَنْتُمْ قَلِيلٌ مُسْتَضْعَفُونَ جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔إِذْ أَنْتُمْ قَلِيلٌ مُسْتَضْعَفُونَ فِي الْأَرْضِ تَخَافُونَ أَنْ يَتَخَطَفَكُمُ النَّاسُ فِي الْأَرْضِ تَخَافُونَ أَنْ يَتَخَطَفَكُمُ النَّاسُ فَأُوسَكُمْ فَانْظُرُوا كَيْفَ صَرَّحَ حَقِيقَةَ فَأُوبِكُمْ۔دیکھو۔اس آیت میں کس طرح ایواء کے الْإِيوَاءِ وَ بِهَا دَاوَاكُمْ۔وَقَالَ حِكَايَةٌ عَن لفظ کی حقیقت کھول کر بتا دی گئی ہے اور تمہارے شک الضحى الانفال ۲۷