تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 71 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 71

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 21 سورة المؤمنون وَتَرْكُ الْفَرْضِ مَعْصِيَّةٌ وَالْإِعْرَاضُ عَنْ ترک کرنا اور ایسے گمراہ لوگوں سے کنارہ کشی اختیار کرنا قَوْمٍ مُّنْتَظِرِينَ ضَالِينَ جَرِيمَةٌ كَبِيرَةٌ تَعالى جو کسی بادی کے منتظر ہوں بہت بڑا گناہ ہے، ایسے شَأْنُ الأَنْبِيَاءِ الْمَعْصُومِينَ مِنْ هَذِهِ سنگین جرائم سے انبیاء معصومین کی شان بالا تر ہوتی الْجَرَائِمِ الَّتِي هِيَ أَشْنَعُ الثَّمَائِمِ۔۔ہے۔۔۔۔لا شَكَ وَلَا شُبْهَةً وَلَا رَيْبَ أَنَّ عِيسَى اس میں کچھ شک وشبہ نہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے لَمَّا مَنَ اللهُ عَلَيْهِ بِتَخْلِيصه من بَليّة حضرت عیسی علیہ السلام کو صلیب کی مصیبت سے الصَّلِيْب هَاجَرَ مَعَ أُمّه وبَعْضِ صَحَابَتِهِ إلى نجات بخش تو آپ نے اپنی والدہ نیز اپنے چند كَشمِيرَ وَرَبوَتِهِ الَّتِي كَانَتْ ذَاتَ قَرَارٍ ساتھیوں سمیت کشمیر کے بلند و بالا علاقہ کی طرف ومَعِينٍ وَتَجمَعِ الْأَعَاجِيْبِ وَإِلَيْهِ أَشَارَ رَبُّنَا ہجرت کی جو چشموں سے شاداب اور مجمع عجائبات تھا ناصِرُ النَّبِيِّينَ وَمُعِينُ الْمُسْتَضْعَفِين في اور ہمارے رب نے جو انبیاء کا مددگار اور کمزوروں کا قَوْلِهِ وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّةَ ايَةٌ وَأَوَيْنَهُما دستگیر ہے اس کی طرف اپنے قول میں وَ جَعَلْنَا ابْنَ إلى رَبُوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَ مَعِينٍ وَلَا شَكَ أَنَّ مَرْيَمَ وَأُمَّةٌ آيَةً وَأَوَيْنَهُمَا إِلَى رَبُوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ الْإِبْوَاء لَا يَكُونُ إِلَّا بَعْدَ مُصِيبَةٍ وَتَعْب وَ مَعِينٍ میں اشارہ فرمایا ہے۔اس میں کوئی ٹھنک وَكُرْبَةٍ۔وَلَا يُسْتَعْمَلُ هذا اللفظ إِلَّا جهدا نہیں کہ ایواء کا لفظ مصیبت اور پریشان کن حالت الْمَعْنى وَهُذَا هُوَ الْحَقُّ مِنْ غَيْرِ شَكٍ سے نجات کے بعد ہی بولا جاتا ہے۔اور یہ لفظ وَشُبْهَةٍ وَلَا يَتَحَقَّقُ هَذِهِ الْحَالَةُ الْمُقَلْقِلَه في عربی زبان میں ہمیشہ انہیں معنوں میں استعمال ہوتا سوانح الْمَسِيحَ إِلَّا عِنْدَ وَاقِعَةِ الضَّلِيبِ ہے۔اور پریشان اور بے چین کرنے والی حالت وَلَيْسَتْ رَبِّوَةٌ فِي الْإِرْتِفَاعِ في جَميعِ الدُّنْيَا حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی میں صرف صلیب مِنَ الْبَعِيدِ وَالْقَرِيبِ كَمِثْلِ ارتفاع کے واقعہ کے وقت ہی پیش آئی تھی اور ہر ذی علم جانتا جِبَالِ كَشْمِيرَ وَكَمِثْلِ مَا يَتَعَلَّقُ بِشُعُبِهَا ہے کہ تمام دنیا میں کشمیر کے بلند و بالا اور سرسبز وشاداب عِنْدَ الْعَلِيمِ الْأَرِيبِ وَلَا يَسَعُ لَكَ تَخطِئَةُ پہاڑوں جیسا اور کوئی پہاڑ نہیں۔اور اہل تحقیق کے هذَا الْكَلَامِ مِنْ غَيْرِ التَّصْويب لئے اس کلام کی تصدیق کے سوا کوئی چارہ نہیں۔وَأَمَّا لفظ "القرار" في الْآيَةِ فَيَدُلُّ عَلَى آيت مذکورہ میں قرار کا لفظ مسیح علیہ السلام کے