تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 70
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة المؤمنون ثُمَّ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرا كُلَّمَا جَاءَ اُمَّةً رَّسُولُهَا كَذَّبُوهُ فَأَتْبَعْنَا بَعْضَهُمْ بَعْضًا وَجَعَلْتُهُمْ أَحَادِيثَ فَبُعْدَ لِقَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ پھر پیچھے سے ہم نے اپنے رسول پے درپے بھیجے ۔ پس ان تمام آیات ( زیر تفسیر اور بعض اور آیات جن کا اس سے پہلے ذکر کیا گیا ہے ) سے ظاہر ہے کہ عادت اللہ یہی ہے کہ وہ اپنی کتاب بھیج کر پھر اس کی تائید اور تصدیق کے لئے ضرور انبیاء بھیجا کرتا ہے چنانچہ توریت کی تائید کے لئے ایک ایک وقت میں چار چار سو نبی بھی آیا جن کے آنے پر اب تک بائیبل شہادت دے رہی ہے۔ شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۴۱) وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَأَمَّهُ آيَةً وَ اوَيُنَهُمَا إِلَى رَبُوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَ مَعِينٍ ہم نے عیسی اور اس کی والدہ کو ایک ایسے ٹیلہ پر جگہ دی جو آرام کی جگہ تھی اور پانی صاف یعنی چشموں کا پانی وہاں تھا۔ سو اس میں خدا تعالیٰ نے کشمیر کا نقشہ کھینچ دیا ہے اور اؤی کا لفظ لغت عرب میں کسی مصیبت یا تکلیف سے پناہ دینے کے لئے آتا ہے اور صلیب سے پہلے عیسیٰ اور اس کی والدہ پر کوئی زمانہ مصیبت کا نہیں گزرا جس سے پناہ دی جاتی ۔ پس متعین ہوا کہ خدا تعالیٰ نے عیسیٰ اور اس کی والدہ کو واقعہ صلیب کے بعد اس کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۷ حاشیه ) ٹیلے پر پہنچایا تھا۔ وَأَوَيْنَهُمَا إِلَى رَبُوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَ مَعِينٍ میں اللہ تعالیٰ یہ بات ہمیں سمجھاتا ہے کہ صلیب کے واقعہ کے بعد ہم نے عیسی مسیح کو صلیبی بلا سے رہائی دے کر اس کو اور اس کی ماں کو ایک ایسے اونچے ٹیلے پر جگہ دی تھی کہ وہ آرام کی جگہ تھی اور اس میں چشمے جاری تھے یعنی سری نگر کشمیر ۔ (کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۷۵ حاشیه ) وَمِنَ الْمَعْلُومِ أَنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ فِي یہ بات سبھی جاتے ہیں کہ بنی اسرائیل حضرت عَهْدِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانُوا مُتَفَرِّقِيْنَ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ہندوستان، فارس اور کشمیر مُنْتَشِرِينَ فِي بِلَادِ الْهِنْدِ وَفَارِسَ وَ كَشْمِيرَ کے ممالک میں پھیلے ہوئے تھے ، اس لئے حضرت عیسیٰ فَكَانَ فَرْضُهُ أَنْ يُدْرِكَهُمْ وَيُلاقِيهِمْ علیہ السلام کا فرض تھا کہ وہ ان کے پاس پہنچیں اور ان وَيَهْدِيَهِمُ إِلَى صِرَاطِ الرَّبِّ الْقَدِيرِ سے ملیں اور انہیں رب قدیر کی راہ دکھا ئیں ۔ اور فرض کا