تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page x
ix مضمون لبید بن ربیعہ العامری کے کلام میں آخری زمانہ کی نسبت عظیم الشان پیشگوئی کاتب وحی عبداللہ ابن ابی سرح کو ابتلا پیش آ گیا تھا خدا تعالیٰ کے کلام اور انسان کے کلام میں مابہ الامتیاز مرد اور عورت کا نطفہ جب تدریجی ترقی کے مراحل سے گذرتا ہے تو اسی قالب میں روح پیدا ہو جاتی ہے موت کا لفظ قرآن کریم میں ذوالوجوہ ہے ضعف اسلام کا زمانہ ابتدائی یہی ۱۸۵۷ء ہے جس کی نسبت آیا ہے جب وہ زمانہ آئے گا قرآن زمین سے اُٹھ جائے گا مسیح موعود کے ظہور کی خاص علامت ہے کہ وہ دجال معہود کے خروج کے بعد نازل ہوگا مسیح ابن مریم کی آخری زمانے میں آنے کی پیشگوئی موجود ہے قرآن شریف نے مسیح کے نکلنے کی ۱۴۰۰ برس تک مدت ٹھہرائی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت عربوں کا حال خدا نے نوح کے زمانے میں ظالموں کو ایک ہزار سال مہلت دی تھی خیر القرون کی صدیوں کو الگ کر کے تقریباً ہزار برس ہو جاتا ہے اوی کا لفظ لغت عرب میں کسی مصیبت یا تکلیف سے پناہ دینے کے لئے آتا صفح ۶۲ ۶۳،۶۲ ۶۳ ۶۴ } ۶۶ ۶۷ ۶۷ ۶۸ ۶۹ ۶۹ ہے اور صلیب سے پہلے عیسی اور اس کی والدہ پر کوئی زمانہ مصیبت کا نہیں گذرا قرار کا لفظ مسیح علیہ السلام کے خطہ کشمیر میں امن و عافیت کے ساتھ بغیر کسی مخالفت کی مزاحمت کے اندیشے کے رہائش اختیار کرنے پر دلالت کرتا ہے ۷۱، ۷۲ نمبر شمار ۴۹ ۵۱ ۵۲ ۵۳ ۵۴ ۵۵ ۵۷ ۵۸ ۵۹ ۶۰