تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 70
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة النحل بڑھ کر ہو سکے تو ایسے بے علت و بے غرض خدا کی عبادت اور خلق اللہ کی خدمت بجالاؤ کہ جیسے کوئی قرابت کے جوش سے کرتا ہے۔شحنه حق، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۳۶۱، ۳۶۲) پہلے طور پر اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ تم اپنے خالق کے ساتھ اس کی اطاعت میں عدل کا طریق مرعی رکھو ظالم نہ بنو۔پس جیسا کہ در حقیقت بجز اُس کے کوئی بھی پرستش کے لائق نہیں۔کوئی بھی محبت کے لائق نہیں کوئی بھی تو گل کے لائق نہیں۔کیونکہ بوجہ خالقیت اور قیومیت در بوبیت خاصہ کے ہر یک حق اُسی کا ہے۔اسی طرح تم بھی اس کے ساتھ کسی کو اُس کی پرستش میں اور اُس کی محبت میں اور اُس کی ربوبیت میں شریک مت ت میں شریک مہ کرو۔اگر تم نے اس قدر کر لیا تو یہ عدل ہے جس کی رعایت تم پر فرض تھی۔پھر اگر اس پر ترقی کرنا چاہو تو احسان کا درجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ تم اس کی عظمتوں کے ایسے قائل ہو جاؤ اور اُس کے آگے اپنی پرستشوں میں ایسے متاذب بن جاؤ اور اُس کی محبت میں ایسے کھوئے جاؤ کہ گویا تم نے اُس کی عظمت اور جلال اور اُس کے حسن لا زوال کو دیکھ لیا ہے۔بعد اس کے ایتاء ذی القربیٰ کا درجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ تمہاری پرستش اور تمہاری محبت اور تمہاری فرمانبرداری سے بالکل تکلف اور تصنع دُور ہو جائے اور تم اُس کو ایسے جگری تعلق سے یاد کرو کہ جیسے مثلاً تم اپنے بالوں کو یاد کرتے ہو اور تمہاری محبت اس سے ایسی ہو جائے کہ جیسے مثلاً بچہ اپنی پیاری ماں سے محبت رکھتا ہے۔اور دوسرے طور پر جو ہمدردی بنی نوع سے متعلق ہے اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ اپنے بھائیوں اور بنی نوع سے عدل کرو اور اپنے حقوق سے زیادہ اُن سے کچھ تعترض نہ کرو اور انصاف پر قائم رہو۔اور اگر اس درجہ سے ترقی کرنی چاہو تو اس سے آگے احسان کا درجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ تو اپنے بھائی کی بدی کے مقابل نیکی کرے اور اُس کی آزار کی عوض میں تو اس کو راحت پہنچاوے اور مروت اور احسان کے طور پر دستگیری کرے۔پھر بعد اس کے ایتاء ذی القربیٰ کا درجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ تو جس قدر اپنے بھائی سے نیکی کرے یا جس قدر بنی نوع کی خیر خواہی بجالا وے اس سے کوئی اور کسی قسم کا احسان منظور نہ ہو بلکہ طبعی طور پر بغیر پیش نہاد کسی غرض کے وہ تجھ سے صادر ہو جیسی شدت قرابت کے جوش سے ایک خویش دوسرے خویش کے ساتھ نیکی کرتا ہے۔سو یہ اخلاقی ترقی کا آخری کمال ہے کہ ہمدردی خلائق میں کوئی نفسانی مطلب یا مدعا یا غرض درمیان نہ