تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 71
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اے سورة النحل ہو بلکہ اخوت و قرابت انسانی کا جوش اس اعلیٰ درجہ پر نشو نما پا جائے کہ خود بخود بغیر کسی تکلف کے اور بغیر پیش نہا در کھنے کسی قسم کی شکر گزاری یا دعا یا اور کسی قسم کی پاداش کے وہ نیکی فقط فطرتی جوش سے صادر ہو۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۵۰ تا ۵۵۲) اللہ تعالیٰ حکم کرتا ہے کہ تم عدل کرو اور عدل سے بڑھ کر یہ ہے کہ باوجود رعایت عدل کے احسان کرو اور احسان سے بڑھ کر یہ ہے کہ تم ایسے طور سے لوگوں سے مروت کرو کہ جیسے کہ گویا کہ وہ تمہارے پیارے اور ذوی القربیٰ ہیں۔اب سوچنا چاہیے کہ مراتب تین ہی ہیں۔اول انسان عدل کرتا ہے یعنی حق کے مقابل حق کی درخواست کرتا ہے۔پھر اگر اس سے بڑھے تو مرتبہ احسان ہے۔اور اگر اس سے بڑھے تو احسان کو بھی نظر انداز کر دیتا ہے اور ایسی محبت سے لوگوں کی ہمدردی کرتا ہے جیسے ما اپنے بچہ کی ہمدردی کرتی ہے یعنی ایک طبعی جوش سے نہ کہ احسان کے ارادہ سے۔جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۲۷) إنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَابْتَاتِي ذِي الْقُرْبى یعنی خدا کا حکم یہ ہے کہ تم عام لوگوں کے ساتھ عدل کرو۔اور اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ تم احسان کرو۔اور اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ تم بنی نوع سے ایسی ہمدردی بجالاؤ جیسا کہ ایک قریبی کو اپنے قریبی کے ساتھ ہوتی ہے۔سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۳۷۰،۳۶۹) اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ نیکی کے مقابل پر نیکی کرو۔اور اگر عدل سے بڑھ کر احسان کا موقعہ اور محل ہو تو وہاں احسان کرو اور اگر احسان سے بڑھ کر قریبوں کی طرح طبعی جوش سے نیکی کرنے کا محل ہو تو وہاں طبعی ہمدردی سے نیکی کرو۔اور اس سے خدا تعالٰی منع فرماتا ہے کہ تم حدود اعتدال سے آگے گزر جاؤ یا احسان کے بارے میں منکرانہ حالت تم سے صادر ہو جس سے عقل انکار کرے یعنی یہ کہ تم بے محل احسان کرو یا بر محل احسان کرنے سے دریغ کرو۔یا یہ کہ تم محل پر ایتاء ذی القربی کے خلق میں کچھ کی اختیار کرو یا حد سے زیادہ رحم کی بارش کرو۔اس آیت کریمہ میں ایصال خیر کے تین درجوں کا بیان ہے۔اول یہ درجہ کہ نیکی کے مقابل پر نیکی کی جائے۔یہ تو کم درجہ ہے اور ادنی درجہ کا بھلا مانس آدمی بھی یہ خلق حاصل کر سکتا ہے کہ اپنے نیکی کرنے والوں کے ساتھ نیکی کرتار ہے۔دوسرا درجہ اس سے مشکل ہے اور وہ یہ کہ ابتداء آپ ہی نیکی کرنا اور بغیر کسی کے حق کے احسان کے طور پر