تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 57
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۷ سورة النحل میں تجھ کو مارنے والا ہوں اس پر دوسرے اقوال اللہ تعالیٰ کے دلالت کرتے ہیں قُلْ يَتَوَفكُم مَّلَكُ ۱۲: الْمَوْتِ (السجدة : ١٢) الَّذِينَ تَتَوَفهُمُ الْمَلَيكَةُ طَيْبِينَ (النحل : ۳۳) - الَّذِينَ تَتَوَفهُمُ الْمَلَيكَةُ ظَالِي أَنفُسِهِم - غرض حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا اعتقاد یہی تھا کہ حضرت عیسیٰ فوت ہو چکے ہیں اور ناظرین پر واضح ہو گا کہ حضرت ابن عباس قرآن کریم کے سمجھنے میں اول نمبر والوں میں سے ہیں اور اس بارے میں اُن کے حق میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعا بھی ہے۔9191 (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۲۵،۲۲۴) وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ إِلا رِجَالًا نُّوحَى إِلَيْهِمُ فَسَلُوا أهل الذكر إن كُنتُم لا تَعْلَمُونَ (۴۴) اگر تمہیں ان بعض امور کا علم نہ ہو جو تم میں پیدا ہوں تو اہل کتاب کی طرف رجوع کرو اور اُن کی کتابوں کے واقعات پر نظر ڈالو تا اصل حقیقت تم پر منکشف ہو جاوے۔سو جب ہم نے موافق حکم اس آیت کے اہل کتاب یعنی یہود اور نصاریٰ کی کتابوں کی طرف رجوع کیا اور معلوم کرنا چاہا کہ کیا اگر کسی نبی گذشتہ کے آنے کا وعدہ دیا گیا ہو تو وہی آجاتا ہے یا ایسی عبارتوں کے کچھ اور معنے ہوتے ہیں تو معلوم ہوا کہ اسی امر متنازعہ فیہ کا ہم شکل ایک مقدمہ حضرت مسیح ابن مریم آپ ہی فیصل کر چکے ہیں اور اُن کے فیصلہ کا ہمارے فیصلہ کے ساتھ اتفاق ہے۔دیکھو کتاب سلاطین و کتاب ملا کی نبی اور انجیل جو ایلیا کا دوبارہ آسمان سے اتر ناکس طور سے حضرت مسیح نے بیان فرمایا ہے۔(ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۳۳) مسلمانوں کو حضرت عیسیٰ کے نزول کے بارے میں اسی خطر ناک انجام سے ڈرنا چاہیے کہ جو یہودیوں کو ایلیا کے بارے میں ظاہر نص پر زور دینے سے پیش آیا۔جس بات کی پہلے زمانوں میں کوئی بھی نظیر نہ ہو بلکہ اس کے باطل ہونے پر نظیریں موجود ہوں اس بات کے پیچھے پڑ جانا نہایت درجہ کے بے وقوف کا کام ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَسَتَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ - یعنی خدا کی سنتوں اور عادات کا نمونہ یہود اور نصاریٰ سے پوچھ لو اگر تمہیں معلوم نہیں۔(کتاب البریه، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۴۳) أَيَنْتَظِرُونَ عِيسَى وَ قَدا کیا یہ لوگ عیسی کے منتظر ہیں حالانکہ ان کی وجہ سے بہت ثَارَتْ بِسَبَبِهِ فِتَن وَهُوَ فِي السَّمَاءِ سے فتنے پیدا ہو چکے ہیں جبکہ وہ ان کے زعم میں آسمان پر ہیں۔