تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 50 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 50

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الحجر سے ہے جو اس کے دل میں ہے۔الحاکم جلد ۴ نمبر ۳۱ مورخه ۳۱ / اگست ۱۹۰۰ صفحه ۳) صوفیوں نے لکھا ہے کہ ہر ایک انسان کے لئے باب الموت کا طے کرنا ضروری ہے اس پر ایک قصہ بھی ہے کہ ایک شخص کے پاس ایک طوطا تھا جب وہ شخص سفر کو چلا تو اس نے طوطہ سے پو چھا کہ تو بھی کچھ کہہ۔طوطہ نے کہا کہ اگر تو فلاں مقام پر گزرے تو ایک بڑا درخت ملے گا اس پر بہت سے طوطے ہوں گے ان کو میرا یہ پیغام پہنچا دینا کہ تم بڑے خوش نصیب ہو کہ کھلی ہوا میں آزادانہ زندگی بسر کرتے ہو اور ایک میں بے نصیب ہوں کہ قید میں ہوں۔وہ شخص جب اس درخت کے پاس پہنچا تو اس نے طوطوں کو وہ پیغام پہنچایا۔ان میں سے ایک طوطہ درخت سے گرا اور پھڑک پھڑک کر جان دے دی۔اس کو یہ واقعہ دیکھ کر کمال افسوس ہوا کہ اس کے ذریعہ سے ایک جان ہلاک ہوئی۔مگر سوائے صبر کے کیا چارہ تھا۔جب سفر سے وہ واپس آیا تو اس نے اپنے طوطہ کو سارا واقعہ سنایا اور اظہار غم کیا۔یہ سنتے ہی وہ طوطہ جو پنجرہ میں تھا پھڑ کا اور پھڑک پھڑک کر جان دے دی۔یہ واقعہ دیکھ کر اس شخص کو اور بھی افسوس ہوا کہ اس کے ہاتھ سے دوخون ہوئے۔آخر اس نے طوطہ کو پنجرہ سے نکال کر باہر پھینک دیا تو وہ طوطہ جو پنجرہ سے مردہ سمجھ کر پھینک دیا تھا اُڑ کر دیوار پر جا بیٹھا اور کہنے لگا کہ دراصل نہ وہ طوطہ مرا تھا اور نہ میں۔میں نے تو اس سے راہ پوچھی تھی کہ اس قید سے آزادی کیسے حاصل ہو سواس نے مجھے بتایا کہ آزادی تو مر کر حاصل ہوتی ہے پس میں نے بھی موت اختیار کی تو آزاد ہو گیا۔البدر جلد ۲ نمبر ۳۰ مورخه ۱۴ راگست ۱۹۰۳ صفحه ۲۳۵،۲۳۴) یہ سچی بات ہے کہ نفس امارہ کی تاروں میں جو یہ جکڑا ہوا ہے اس سے رہائی بغیر موت سے ممکن ہی نہیں۔اسی موت کی طرف اشارہ کر کے قرآن شریف میں فرمایا ہے وَاعْبُدُ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ۔اس جگہ یقین سے مراد موت بھی ہے یعنی انسان کی اپنی ہوا و ہوس پر پولی فنا طاری ہو کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت رہ جاوے اور وہ یہاں تک ترقی کرے کہ کوئی جنبش اور حرکت اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی نہ ہو۔سید عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ موت انسان پر وارد ہو جاتی ہے تو سب عبادتیں ساقط ہو جاتی ہیں اور پھر خود ہی سوال کرتے ہیں کہ کیا انسان باحتی ہو جاتا ہے اور سب کچھ اس کے لئے جائز ہو جاتا ہے؟ پھر آپ ہی جواب دیا ہے کہ یہ بات نہیں کہ وہ اباحتی ہو جاتا ہے بلکہ بات اصل یہ ہے کہ عبادت کے انتقال اس سے دور ہو جاتے ہیں اور پھر تکلف اور تصنع سے کوئی عبادت وہ نہیں کرتا بلکہ عبادت ایک شیر میں اور لذیذ غذا کی طرح ہو جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کی نافرمانی اور مخالفت اس سے ہو سکتی ہی نہیں اور خدا تعالیٰ