تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 47
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۷ سورة الحجر تمام وعدوں پر ایک سخت زلزلہ نہیں لاتا ؟ پس یقینا سمجھو کہ ایسا اعتقاد رکھنے میں نہ صرف مسیح پر نا جائز مصیبت وارد کرو گے بلکہ ان لغو باتوں سے خدائے تعالیٰ کی کسر شان اور کمال درجہ کی بے ادبی بھی ہوگی اس امر کو ایک بڑے غور اور دیدہ تعمیق سے دیکھنا چاہیئے کہ ایک ادنی اعتقاد سے جس سے نجات پانے کے لئے استعارہ کی راہ موجود ہے بڑی بڑی دینی صداقتیں آپ کے ہاتھ سے فوت ہوتی ہیں اور درحقیقت یہ ایک ایسا فاسد اعتقاد ہے جس میں ہزاروں خرابیاں سخت اُلجھن کے ساتھ گرہ در گرہ لگی ہوئی ہیں اور مخالفوں کو ہنسی اور ٹھٹھے کے لئے موقعہ ہاتھ آتا ہے۔توضیح مرام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۵،۵۴) ہمارے عقیدہ کے موافق خدائے تعالیٰ کا بہشتیوں کے لئے یہ وعدہ ہے کہ وہ کبھی اس سے نکالے نہیں جائیں گے پھر تعجب کہ ہمارے علماء کیوں حضرت مسیح کو اس فردوس بریں سے نکالنا چاہتے ہیں آپ ہی یہ قصے سناتے ہیں کہ حضرت ادریس جب فرشتہ ملک الموت سے اجازت لے کر بہشت میں داخل ہوئے تو ملک الموت نے چاہا کہ پھر باہر آویں لیکن حضرت ادریس نے باہر آنے سے انکار کیا اور یہ آیت سنادی وَمَا هُمْ مِنْهَا بِمُخْرَجِيْنَ اب میں پوچھتا ہوں کہ کیا حضرت مسیح اس آیت سے فائدہ حاصل کرنے کے مستحق نہیں ہیں کیا یہ آیت اُن کے حق میں منسوخ کا حکم رکھتی ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ وہ اس لئے اس تنزل کی حالت میں بھیجے جائیں گے کہ بعض لوگوں نے انہیں ناحق خدا بنایا تھا تو یہ اُن کا قصور نہیں ہے لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وزْرَ أُخْرى (الانعام : ۱۲۵ ) ما سوائے اس کے یہ بات بھی نہایت غور کے قابل ہے کہ یہ خیال کہ بیچ بیچ سیح بن مریم ہی بہشت سے نکل کر دنیا میں آجائیں گے تصریحات قرآنیہ سے بکلی مخالف ہے۔قرآن شریف تین جگہ حضرت مسیح کا فوت ہو جانا کھلے کھلے طور پر بیان کرتا ہے اور حضرت مسیح کی طرف سے یہ عذر پیش کرتا ہے کہ عیسائیوں نے جو انہیں اپنے زعم میں خدا بنادیا تو اس سے مسیح پر کوئی الزام نہیں کیونکہ وہ اس ضلالت کے زمانہ سے پہلے فوت ہو چکا تھا۔(ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۴۹،۱۴۸) بہشت میں داخل ہونے والے ہر یک رنج اور تکلیف سے رہائی پاگئے اور وہ کبھی اس سے نکالے نہیں جائیں گے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۸۰) اس جگہ بظاہر یہ اعتراض لازم آتا ہے کہ جب کہ ہر ایک مومن طیب اور طاہر جن کی گردن پر کوئی بوجھ گناہ اور معاصی کا نہیں بلا توقف بہشت میں داخل ہو جاتے ہیں تو اس صورت میں حشر اجساد اور اس کے تمام لوازم متعلقہ سے انکار لازم آتا ہے۔کیونکہ جب کہ بہشت میں داخل ہو چکے تو پھر بموجب آیت وَمَا هُمْ مِنْهَا