تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 46 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 46

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۶ سورة الحجر ہے۔ کورانہ تقلید اور اتباع ھوئی کے ذیل میں بہت سے گناہ آتے ہیں ۔ الحکم جلد ۷ نمبر ۳۰ مورخه ۱۷ اگست ۱۹۰۳ء صفحه ۱۰) وَ نَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنْ غِلَّ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُّتَقْبِلِينَ ) یہ ایک پیشگوئی ہے کہ آئندہ زمانہ میں آپس میں رنجشیں ہوں گی لیکن غل ان کے سینوں میں سے کھینچ لیویں گے۔ وہ بھائی ہوں گے تختوں پر بیٹھنے والے۔ (البدر جلد نمبر ۲ مورخہ ۷ نومبر ۱۹۰۲ صفحه ۱۵) قرآن شریف صحابہ کی تعریف سے بھرا پڑا ہے اور ان کی ایسی تکمیل ہوئی کہ دوسری کوئی قوم ان کی نظیر نہیں رکھتی۔ پھر ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے جزا بھی بڑی دی یہاں تک کہ اگر با ہم کوئی رنجش بھی ہوگئی تو اس کے لئے فرمایا وَ نَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنْ غِلَّ الآية - الحكم جلد ۱۰ مورخه ۳۱ جولائی ۱۹۰۶ صفحه ۴) یہ تو شیعوں کا مذہب ہے کہ صحابہ کے درمیان آپس میں ایسی سخت دشمنی تھی ۔ یہ غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ اس کی تردید میں فرماتا ہے کہ نَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنْ غِلَّ - برادریوں کے درمیان آپس میں دشمنیاں ہوا کرتی ہیں مگر شادی ، مرگ کے وقت وہ سب ایک ہو جاتے ہیں۔ اخیار میں خونی دشمنی کبھی نہیں ہوتی۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۱۰ مورخه ۱۷ مارچ ۱۹۰۱ء صفحه ۸ ) لَا يَمَسُّهُمْ فِيهَا نَصَبٌ وَمَا هُمْ مِنْهَا بِمُخْرَجِينَ ) جو لوگ بہشت میں داخل کئے جائیں گے پھر اس سے نکالے نہیں جائیں گے اور قرآن شریف میں اگر چہ حضرت مسیح کے بہشت میں داخل ہونے کا بہ تصریح کہیں ذکر نہیں لیکن ان کی وفات پا جانے کا تین جگہ ذکر ہے اور مقدس بندوں کے لئے وفات پانا اور بہشت میں داخل ہونا ایک ہی حکم میں ہے کیونکہ برطبق آیت قِيلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ يُسَ : ۲۷) وَادْخُلِي جَنَّتِي ( الفجر : ۳۱) وہ بلا توقف بہشت میں داخل کئے جاتے ہیں ۔ اب مسلمانوں اور عیسائیوں دونوں گروہ پر واجب ہے کہ اس امر کو غور سے جانچیں کہ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک مسیح جیسا مقرب بندہ بہشت میں داخل کر کے پھر اُس سے باہر نکال دیا جائے؟ کیا اس میں خدائے تعالیٰ کے اس وعدہ کا تختلف نہیں جو اس کی تمام پاک کتابوں میں بتواتر و تصریح موجود ہے کہ بہشت میں داخل ہونے والے پھر اس سے نکالے نہیں جائیں گے ۔ کیا ایسے بزرگ اور حتمی وعدہ کا ٹوٹ جانا خدائے تعالیٰ کے