تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 41
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱ سورة الحجر الْمَوْتُ فِي جَمِيعِ الأَقْوَامِ وَالدِّيَارِ تب اس وقت اللہ تعالیٰ نے دیکھا کہ بعث ( یعنی اٹھائے وَالْجِهَاتِ۔ فَهُنَاكَ رَأَى اللهُ أَنَّ وَقْت جانے کا وقت آچکا ہے اور موت کا وقت اپنی انتہا کو پہنچ الْبَعْثِ قَدْ أَلَى، وَوَقْتَ الْمَوْتِ بَلَغَ إِلَى گیا ہے تب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مبعوث فرمایا جس الْمُنْتَهى فَأَرْسَلَ رَسُولَهُ كَمَا جَرَتْ طرح کہ پہلی صدیوں میں اس کی سنت جاری تھی تا کہ وہ سُنَّتُه فِي قُرُونِ أُولى، لِيُحْيِي الْمَوْتَى مردوں کو زندہ کرے اور یہ رب الکائنات کا وعدہ پورا ہو کر وَكَانَ وَعْدًا مَّفْعُولًا مِّنْ رَّبِّ الْوَرى رہنے والا تھا۔ (ترجمہ از مرتب ) ( خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۳۲۰ تا ۳۲۳) الا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ ۔ محققوں نے بخاری کی اس حدیث کو ۔۔۔۔۔ مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا وَالشَّيْطَنُ يَمَسُّهُ حِيْنَ يُولَدُ إِلَّا مَرْيَمَ وَابْنَهَا۔ قرآن کریم کی ان آیات سے مخالف پا کر کہ اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ وَإِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَنُ ( الحجر : (۴۳) - وَسَلَامٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ (مریم : ۱۶) ۔ اس حدیث کی یہ تاویل کر دی کہ ابن مریم اور مریم سے تمام ایسے اشخاص مراد ہیں جو ان دونوں کی صفت پر ہوں جیسا کہ شارح بخاری نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے۔ قَدْ طَعَنَ الزَّمَخْشَرِى فِي مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ وَ تَوَقَّفَ فِي صِحَتِهِ وَ قَالَ إِنْ صَحَ فَمَعْنَاهُ كُلُّ مَنْ كَانَ فِي صِفَتِهِمَا لِقَوْلِهِ تَعَالَى إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ یعنی علامہ زمخشری نے بخاری کی اس حدیث میں طعن کیا ہے اور اس کی صحت میں اس کو شک ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث معارض قرآن ہے اور فقط اس صورت میں صحیح متصور ہو سکتی ہے کہ اس کے یہ معنے کئے جائیں کہ مریم اور ابن مریم سے مراد تمام ایسے لوگ ہیں جو اُن کی صفت پر ہوں ۔ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۰۹ ، ۶۱۰ ) إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَنُ إِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغَوِينَ ) آیت إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَنَ ۔۔۔۔۔ صاف دلالت کر رہی ہے کہ مس شیطان سے محفوظ ہونا ابن مریم سے مخصوص نہیں ۔ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۹۳)