تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 40
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام سورة الحجر لِلْعَالَمِينَ۔فَقَبَتَ مِنْ هَذَا الْمَقَامِ أَنَّ اس مقام سے یہ امر ثابت ہے کہ روحانی موت کا زمانہ زَمَانَ الْمَوْتِ الرُّوْحَانِي كَانَ مُقَدَّدًا من خدائے رب العالمین کی طرف سے مقدر تھا اور یوں فیصلہ کیا رَّبِّ الْعَالَمِينَ۔وَكَانَ قُيّد أَنَّ النَّاسَ گیا تھا کہ چھٹے ہزار میں سوائے تھوڑے سے نیکو کارلوگوں يَضِلُّونَ كُلُهُمْ في الأَلْفِ السَّادِس إِلَّا کے سب لوگ گمراہ ہو جائیں گے اسی وجہ سے شیطان نے قَلِيلٌ مِنَ الصَّالِحِينَ، فَلِأَجْلِ ذَالِكَ کہا تھا لأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ ، میں ان سب کو گمراہ کر دوں گا۔دو ↓ 191 قَالَ الشَّيْطَانُ لأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ وَلَوْ اور اگر یہ اللہ کی تقدیر نہ ہوتی تو شیطان لعین ایسی بات کہنے لَمْ يَكُن هَذَا التَّقْدِيرُ لَمَا اجْتَرَأَ عَلی کی جرات نہ کرتا۔چونکہ اسے یہ بات معلوم تھی کہ اللہ تعالیٰ هذَا الْقَوْلِ ذَالِكَ اللَّعِيْنُ۔وَلَمَّا كَانَ نے ان زمانوں کے پیچھے بعث اور ہدایت اور فہم و درایت کا يَعْلَمُ أَنَّ اللهَ قَفى هَذِهِ الْأَزْمِنَةَ بِزَمَانِ زمانہ مقدر فرمایا ہے اس لئے اس نے کہا الى يَوْمِ الْبَعْثِ وَالْهِدَايَةِ وَالْفَهْمِ وَالرِّدَايَةِ يُبْعَثُونَ ، کہ میرا یہ گمراہ کرنا اس وقت تک ہوگا جب تک قَالَ إلى يَوْمِ يُبْعَثُونَ۔۔۔فَالْحَاصَلُ أَنَّ که دور بعث و ہدایت نہ آجائے۔مختصر یہ ہے کہ آخری زمانہ اخِرَ الْأَزْمِنَةِ زَمَانُ الْبَعْثِ كَمَا يَعْلَمُهُ لوگوں کو اُٹھائے جانے اور ہدایت پانے کا ہے جیسا کہ الْعَالِمُونَ۔فَكَأَنَّ اللهَ قَسَمَ الْأُلُوفَ اہلِ علم جانتے ہیں گویا اللہ تعالیٰ نے چھ ہزار سال کو چھ السنَّةَ عَلَى الْأَرْمِنَةِ السّتَّةِ، وَأَوْدَعَ زمانوں پر تقسیم فرمایا اور ساتویں ہزار کے بعض حصوں کو بَعْضَ حِصَصِ السَّابِعِ لِلْقِيَامَةِ وَلَمَّا قیامت کے لئے مقرر کر دیا۔اور جب چھٹا ہزار آیا جو کہ اللہ جَاءَ الْأَلْفُ السَّادِسُ الَّذِي هُوَ زَمَانُ کریم کی طرف سے بعثت کا زمانہ ہے تو گمراہی کا معاملہ مکمل الْبَعْثِ مِنَ اللهِ الْكَرِيمِ، تَمَّ أَمْرُ ہو گیا اور لوگ شیطانِ لئیم کے گمراہ کرنے کی وجہ سے بہت۔الإضْلالِ وَصَارَ النَّاسُ فِرَقًا كَثِيرَةٌ سے فرقوں میں بٹ گئے۔سرکشی و طغیان بڑھ گیا اور یہ فرقے مِنَ الشَّيْطَانِ اللَّهِيمِ، وَزَادَ الطغيانُ سمندر کی بھاری موجوں جیسے جوش و خروش سے ایک وَتَمَوَّجَ الْفِرَقُ كَتَمَوجِ الْأَمْوَاجِ دوسرے پر ٹوٹ پڑے اور ضلالت اور گمراہی پہاڑوں کی الثِّقَالِ، وَشَمَعَ الضَّلَالَةُ الجِبَالِ طرح اونچی ہوگئی اور لوگ بے علمی ،فسق و فجور، بے حیائی وَمَاتَ النَّاسُ يَمَوتِ الْجَهْلِ وَالْفِسْقِي اور لاپرواہی کی موت مر گئے اور یہ روحانی موت ساری وَالْفَوَاحِشِ وَعَدُمِ الْمُبَالَاةِ وَعَمَّ قوموں ، سارے ملکوں اور سارے اطراف میں پھیل گئی الحجر :۴۰