تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 39 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 39

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹ سورة الحجر اسْتَمْهَلَ الشَّيْطَانُ إِلى هَذَا الزَّمَانِ مبارک زمانہ تک اپنے لئے مہلت طلب کی اور اللہ تعالیٰ نے الْمَسْعُودِ، فَمَهَّلَهُ اللهُ لِيُتِمَّ كُلَّ مَا أَرَادَ اسے مہلت دے دی تا شیطان انسانوں کے بارے میں جو لِلْعَالَمِينَ فَأَغْوَى الشَّيْطَانُ مَنْ تَبِعَةَ ارادے رکھتا ہے انہیں پایہ تکمیل تک پہنچائے سو شیطان أَجْمَعِينَ فَتَقَطَّعُوا بَيْنَهُمْ أَمْرَهُمْ، نے اپنے سب متبعین کو گمراہ کیا اور انہوں نے باہم اپنے وَكَانَ كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحِينَ معاملات میں تفرقہ پیدا کیا اور ہر گروہ اپنے خیالات اور وَمَا بَقِيَ عَلَى الصِّرَاطِ إِلَّا عِبَادُ الله عقائد پر شاداں و فرحاں ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ کے صراط مستقیم پر الصَّالِحِينَ وَالسِّرُّ فِيهِ أَنَّ الزَّمَانَ سوائے اس کے صالح بندوں کے کوئی قائم نہ رہا۔ اس قُسِمَ عَلَى سِتَّةِ أَقْسَامٍ، مِنَ اللهِ الَّذِی سارے واقعہ میں یہ راز ہے کہ زمانہ چھ قسموں پر تقسیم ہے۔ خَلَقَ الْعَالَمَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ فَهُوَ زَمَانُ اللہ کی طرف سے جس نے اس جہان کو چھ اوقات میں پیدا الْإِبْتِدَاء ، وَزَمَانُ التَّزَائِدِ وَالنَّمَاءِ ، فرمایا: ا - زمانہ ابتداء ۔۲۔ نشو ونما اور زیادتی کا زمانہ ۔۳۔ وَزَمَانُ الْكَمَالِ وَالْإِنْتِهَاءِ، وَزَمَانُ کمال اور انتہاء کا زمانہ ۔ ۴۔ انحطاط اور اللہ تعالیٰ سے تعلق الانحطاط وَقِلَّةِ التَّعَلُّقِ بِاللهِ وَقِلَّةِ میں کمی کا زمانہ ۔ ۵۔ مختلف گمراہیوں کے نتیجہ میں روحانی الْإِرْتِبَاطِ، وَزَمَانُ الْمَوْتِ بِأَنْوَاعِ موت کے واقع ہونے کا زمانہ ۔۶۔ موت کے بعد اٹھائے الضَّلَالَاتِ وَ زَمَانُ الْبَعْثِ بَعْدَ جانے کا زمانہ ۔ پس اللہ تعالیٰ کے نزدیک لوگوں کی مثال آدم الْمَمَاتِ۔ فَإِنَّ مَثَلَ النَّاسِ عِنْدَ الله کے وقت سے لے کر آخری زمانہ تک اس کھیتی کی مثال ہے مِنْ وَقْتِ أَدَمَ إِلى آخِرِ الزَّمَانِ كَزَرْعٍ جس نے اپنی روئیدگی نکالی پھر اس کو قوت پہنچائی اور وہ أَخْرَجَ شَطْأَ فَازَرَةً فَاسْتَغْلَظَ مضبوط ہو گئی اور پھر اپنے تنے پر قائم ہوگئی۔ اس کے بعد وہ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ، ثُمَّ اصْفَرَ فَطَفِقَ زرد ہو گئی اور اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق اس کے پتے تَتَسَاقَط بِإِذْنِ اللهِ، ثُمَّ حُصِدَ فَبَقِيَتِ جھڑنے لگے پھر اسے کاٹ لیا گیا تب زمین بالکل خالی الْأَرْضُ خَاوِيَةً، ثُمَّ أَحْيَاهَا اللهُ بَعْدَ ہوگی ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے زمین کو مردہ ہونے کے بعد زندہ کیا مَوْتِهَا فَإِذَا هِيَ رَاوِيَةٌ، وَأَنْبَتَ فِيهَا جس پر وہ سیراب ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے اس میں سرسبز اور نَبَانًا مُتَرَعْرِعًا مُخْضَرًا، وَعُيُونُ الزراع لہرانے والی کھیتی پیدا کی اور کسانوں کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا اس أَقَرَ كَذَالِكَ ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا طرح اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں کی یہ مثال بیان فرمائی ۔ پس