تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 38 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 38

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸ سورة الحجر 66 الْأَمْرُ، وَيَضَعُ اللهُ الْحَرْبَ، وَتَقَعُ الْأَمَنَةُ کامل ہوگا اور اللہ تعالیٰ لڑائی کو بند کرا دے گا اور زمین پر عَلَى الْأَرْضِ، وَتَنْزِلُ السَّكِينَةُ وَالصُّلْحُ امن قائم ہو جائے گا اور سیکنت اور صلح دلوں کی گہرائیوں فِي جُنُورِ الْقُلُوبِ، وَتَتْرُكُ السَّبَاعُ میں قائم ہو جائے گی درندے اپنی درندگی کی عادتوں کو اور سَبْعِيَّتَهَا وَالْأَفَاعِي سُمِيَّتَهَا، وَتَتَبَيَّنُ اژدھے اپنی زہرنا کی کو چھوڑ دیں گے۔ رُشد اور ہدایت الرُّشْدُ وَتَهْلِكُ الْغَيُّ، وَلَا يَبْقَى مِنَ الْكُفْرِ واضح ہو جائے گی اور گمراہی مٹ جائے گی ۔ کفر اور شرک وَالشَّرْكِ إِلَّا رَسْمُ قَلِيلٌ، وَلَا يَلْتَزِمُ کے صرف تھوڑے سے نشان باقی رہ جائیں گے۔ فسق و الْفِسْقَ وَالْفَاحِشَةَ إِلَّا قَلْبٌ عَلِيْلٌ فجور اور بے حیائی کو صرف بیمار دل اختیار کریں گے اور وَيُهْدَى الضَّالُّونَ، وَيُبْعَثُ الْمَقْبُورُونَ۔ گمراہوں کو ہدایت دے دی جائے گی ۔ قبروں میں پڑے فَهُذَا هُوَ مَعْنَى قَوْلِهِ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ ہوئے اٹھائے جائیں گے۔ یہی معنے اللہ تعالیٰ کے ارشاد فَإِنَّ هَذَا الْبَعْثَ بَعْثُ مَّا رَاهُ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ “ کے ہیں۔ یقیناً یہی وہ اٹھایا جانا الْأَوَّلُونَ وَلَا الْمُرْسَلُونَ السَّابِقُونَ وَلَا ہے جو پہلے لوگوں نے نہیں دیکھ اور نہ ہی پہلے رسولوں اور النَّبِيُّونَ أَجْمَعُونَ۔ وَإِنَّ دِینَ اللهِ وَإِنْ نبیوں کو یہ نظارہ نظر آیا اگر چہ اللہ کا دین شروع سے ہی اپنی كَانَ غَالِبًا مِنْ بُدُو أَمْرِهِ عَلَى كُلِّ دِينِ روحانی قوت اور استعداد کے لحاظ سے دوسرے ہر دین پر مِنْ حَيْثُ الْقُوَّةِ وَالْاسْتِعْدَادِ، وَلكِن غالب ہے لیکن اسے کبھی یہ موقع پہلے میسر نہیں آیا کہ اس لَّمْ يَتَّفِقُ لَهُ مِنْ قَبْلُ أَنْ يُبَارِی نے دلیل، برہان اور سند کے لحاظ سے باقی دینوں سے مقابلہ الْأَدْيَانَ كُلَّهَا بِالْحُجَّةِ وَالْإِسْنَادِ کیا ہو اور انہیں پورے طور پر شکست دی ہو اور یہ ثابت کر وَيَهْزَمَهَا كُلَّ الْهَزْمِ وَيُثْبِتَ أَنَّهَا مَمْلُوةٌ دیا ہو کہ اسلام کے سوا دوسرے مذاہب خرابیوں سے پر مِنَ الْفَسَادِ، وَيَخْرُجَ كَالْأَبْطَالِ بِأَسْلِحَةِ ہیں اور نہ ہی ایسا موقع آیا کہ استدلال کے ہتھیاروں سے الْإِسْتِدْلَالِ، حَتَّى يَعُمَّ فِي جَمِيعِ الدِّيَارِ مسلح ہو کر دین اسلام بہادروں کی طرح میدان میں آیا ہو وَالْبِلَادِ وَكَانَ ذَالِكَ تَقْدِيرًا مِنَ اللهِ یہاں تک کہ تمام شہروں اور ملکوں میں پھیل گیا ہو۔ یقیناً یہ الْوَدُودِ بِمَا سَبَقَ مِنْهُ أَنَّ الْغَلَبَةَ التَّامَّةَ خدائے مہربان کی ایک آسمانی تقدیر تھی کیونکہ اس نے پہلے وَالصَّلَاحَ الْأَكْبَرَ الْأَعَمَّ يَخْتَصُّ سے یہ فرما دیا تھا کہ کامل غلبہ اور بہت بڑی عمومی اصلاح بِزَمَانِ الْمَسِيحِ الْمَوْعُودِ وَلِذَالِكَ | مسیح موعود کے زمانہ سے مختص ہے اس لئے شیطان نے اس ل الاعراف : ۱۵