تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 34 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 34

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴ سورة الحجر یعنی شیطان نے جناب الہی میں عرض کی کہ میں اُس وقت تک ہلاک نہ کیا جاؤں جب تک کہ وہ مردے جن کے دل مرگئے ہیں دوبارہ زندہ ہوں۔خدا نے کہا کہ میں نے تجھے اُس وقت تک مہلت دی۔سو وہ دجال جس کا حدیثوں میں ذکر ہے وہ شیطان ہی ہے جو آخر زمانہ میں قتل کیا جائے گا۔جیسا کہ دانیال نے بھی یہی لکھا ہے اور بعض حدیثیں بھی یہی کہتی ہیں۔اور چونکہ مظہر اتم شیطان کا نصرانیت ہے اس لئے سورۃ فاتحہ میں دجال کا تو کہیں ذکر نہیں مگر نصاری کے شر سے خدا تعالی کی پناہ مانگنے کا حکم ہے۔اگر دجال کوئی الگ مفسد ہوتا تو قرآن شریف میں بجائے اس کے کہ خدا تعالیٰ یہ فرماتا و لا الظَّالِينَ یہ فرمانا چاہئے تھا کہ وَلَا الدجالِ۔اور آیت إِلى يَوْمِ يُبْعَثُونَ سے مراد جسمانی بحث نہیں کیونکہ شیطان صرف اُس وقت تک زندہ ہے جب تک کہ بنی آدم زندہ ہیں۔ہاں شیطان اپنے طور سے کوئی کام نہیں کرتا بلکہ بذریعہ اپنے مظاہر کے کرتا ہے سو وہ مظاہر یہی انسان کو خدا بنانے والے ہیں اور چونکہ وہ گروہ ہے اس لئے اُس کا نام دجال رکھا گیا ہے۔کیونکہ عربی زبان میں دجال گروہ کو بھی کہتے ہیں۔(حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۱) وَإِنَّ أدَمَ هَوَى مِنْ قَبْلُ فِي مَصَاف اور یقیناً آدم اس سے قبل میدان مقابلہ میں گر گئے | وَهَزَمَهُ الشَّيْطَانُ فَمَا رَأَى الْغَلَبَةَ إلى تھے اور شیطان نے انہیں شکست دے دی تھی پس چھ ہزار سِتَّةِ أَلَافٍ، وَمُرِّقَتْ ذُرِّيَّتُهُ وَفُرّقَتْ في سال تک وہ غلبہ کو نہ دیکھ سکے۔ان کی اولاد پراگندہ ہوگئی أَطْرَافِ فَإِلى كَمْ يَكُونُ الشَّيْطَانُ مِن اور اطراف عالم میں منتشر کر دی گئی۔پس کب تک شیطان الْمُنَظَرِينَ المْ يُغْوِ النَّاسُ مہات پائے گا۔کیا اس نے سب لوگوں کو گمراہ نہیں کیا أَجْمَعِينَ إِلَّا قَلِيلًا مِّن عِبَادِ الله بجز اس تھوڑی تعداد کے جو اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی الصَّالِحِينَ فَقَد أَتَمَّ أَمْرَهُ وَكَمَّلَ فِعْلَه تھی۔سو اس نے اپنا کام پورا کر لیا اور اپنا عمل مکمل کر لیا اور وَحَانَ أَنْ يُعَانَ ادَهُ مِن رَّبِّ اب وقت آگیا ہے کہ خدائے رب العالمین کی طرف سے الْعَالَمِيْن وَلَا شَكَ وَلَا شُبْهَةَ أَنَّ إنظار حضرت آدم کی مدد کی جائے۔اور یہ بات بلا شک و شبہ الشَّيْطَانِ كَانَ إِلى أَخِرِ الزَّمَانِ، كَمَا درست ہے کہ شیطان کا مہلت پانا جیسا کہ قرآن مجید سے يُفْهَمُ مِنَ الْقُرْآنِ أغنى لفظ سمجھا جاتا ہے آخر الزمان تک تھا۔میری مراد لفظ " انظار الإنظار الَّذِي جَاءَ فِي الْفُرْقَانِ فَإِنَّ سے ہے جو قرآن مجید میں وارد ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اسے الله خَاطَبَهُ وَقَالَ: إِنَّكَ مِنَ الْمُنظَرِينَ مخاطب ہوکر فرمایا تھا: إِنَّكَ مِنَ الْمُنظَرِينَ إلى يَوْمِ