تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 31
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣١ سورة الحجر وَالْجَانَ خَلَقْنَهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَارِ السَّمُومِ۔۲۸ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً (البقرة : ۳۱) سے استنباط ایسا ہو سکتا ہے کہ پہلے سے اس وقت کوئی قوم موجود ہو اور دوسری جگہ اللہ تعالی قرآن شریف میں فرماتا ہے وَالْجَانَ خَلَقْنَهُ مِن قَبْلُ مِنْ نَارِ السَّمُومِ ایک قوم جان بھی آدم سے پہلے موجود تھی۔البدر جلد ۲ نمبر ۲۴ مورخه ۳/ جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۸۷) فَإِذَا سَوَيْتُه وَنَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَجِدِينَ۔(انسان ) باعتبار روح عالم صغیر ہے اور بلحاظ شیون وصفات کا ملہ وظلتیت تام روح البی کا مظہر تام ہے۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۷۹،۱۷۸ حاشیه در حاشیه ) جب میں نے اس کا قالب بنالیا اور تجلیات کے تمام مظاہر درست کر لئے اور اپنی روح اس میں پھونک دی تو تم سب لوگ اس کے لئے زمین پر سجدہ کرتے ہوئے گر جاؤ۔سو اس آیت میں یہی اشارہ ہے کہ جب اعمال کا پورا قالب تیار ہو جاتا ہے تو اس قالب میں وہ روح چمک اٹھتی ہے۔جس کو خدا تعالیٰ اپنی ذات کی طرف منسوب کرتا ہے۔کیونکہ دنیوی زندگی کے فنا کے بعد وہ قالب تیار ہوتا ہے اس لئے الہی روشنی جو پہلے دھیمی تھی یکدفعہ بھڑک اٹھتی ہے۔اور واجب ہوتا ہے کہ خدا کی ایسی شان کو دیکھ کر ہر ایک سجدہ کرے اور اس کی طرف کھینچا جائے۔سو ہر ایک اس نور کو دیکھ کر سجدہ کرتا ہے۔اور طبعاً اس طرف آتا ہے بجز ابلیس کے جو تاریکی سے دوستی رکھتا ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۲۲) حکمت الہیہ نے آدم کو ایسے طور سے بنایا کہ فطرت کی ابتدا سے ہی اس کی سرشت میں دو قسم کے تعلق قائم کر دئیے۔یعنی ایک تعلق تو خدا سے قائم کیا جیسا قرآن شریف میں فرمایا فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَ نَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ روحي فَقَعُوا لَه سجدِينَ یعنی جب میں اس کو ٹھیک ٹھاک بنالوں اور میں اپنی روح اس میں پھونک دوں تو اے فرشتو اس وقت تم سجدہ میں گر جاؤ۔مذکوہ بالا آیت سے صاف ثابت ہے کہ خدا نے آدم میں اس کی پیدائیش کے ساتھ ہی اپنی روح پھونک کر اس کی فطرت کو اپنے ساتھ ایک تعلق قائم کر دیا۔سو یہ اس لئے کیا گیا کہ تا انسان کو فطر نا خدا سے تعلق پیدا ہو جاوے۔ایسا ہی دوسری طرف یہ بھی ضروری تھا کہ ان لوگوں سے بھی فطرتی تعلق ہو جو بنی نوع کہلائیں