تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 32 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 32

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۳۲ سورة الحجر گے کیونکہ جبکہ ان کا وجود آدم کی ہڈی میں سے ہڈی اور گوشت میں سے گوشت ہوگا تو وہ ضرور اس روح میں سے بھی حصہ لیں گے جو آدم میں پھونکی گئی۔ریویو آف ریلیجنز جلد نمبر ۵ صفحه ۱۷۷ ۱۷۸ مئی ۱۹۰۲ء) اس آیت میں ایک عمیق راز کی طرف اشارہ ہے جو انتہائی درجہ کے کمال کا ایک نشان ہے اور وہ یہ کہ انسان ابتدا میں صرف صورت انسان کی ہوتی ہے مگر اندر سے وہ بے جان ہوتا ہے اور کوئی روحانیت اس میں اندر ہوتا اورکوئی نہیں ہوتی اور اس صورت میں فرشتے اس کی خدمت نہیں کرتے کیونکہ وہ ایک پوست بے مغز ہے لیکن بعد اس کے رفتہ رفتہ سعید انسان پر یہ زمانہ آ جاتا ہے کہ وہ خدا سے بہت ہی قریب جا رہتا ہے۔تب جب ٹھیک ٹھیک ذوالجلال کی روشنی کے مقابل پر اس کا نفس جا پڑتا ہے اور کوئی حجاب درمیان نہیں ہوتا کہ اس روشنی کو روک دے تو بلا توقف الوہیت کی روشنی جس کو دوسرے لفظوں میں خدا کی روح کہہ سکتے ہیں اس انسان کے اندر داخل ہو جاتی ہے اور وہی ایک خاص حالت ہے جس کی نسبت کلام الہی میں کہا گیا کہ خدا نے آدم میں اپنی روح پھونک دی۔اس حالت پر نہ کسی تکلف سے اور نہ ایسے امر سے جو شریعت کے احکام کے رنگ میں ہوتا ہے۔فرشتوں کو یہ حکم ہوتا ہے کہ اس کے آگے سجدہ میں گریں یعنی کامل طور پر اس کی اطاعت کریں گویا وہ اس کو سجدہ کر رہے ہیں۔یہ حکم فرشتوں کی فطرت کے ساتھ لگا ہوا ہوتا ہے۔کوئی مستحدث امر نہیں ہوتا۔یعنی ایسے شخص کے مقابل پر جس کا وجود خدا کی صورت پر آجاتا ہے خود فرشتے طبعاً محسوس کر لیتے ہیں کہ اب اس کی خدمت کے لئے ہمیں گرنا چاہیے اور ایسے قصے در حقیقت قصے نہیں ہیں بلکہ قرآن کریم میں عادات الہی اسی طرح واقع ہے کہ ان قصوں کے نیچے کوئی علمی حقیقت ہوتی ہے۔پس اس جگہ یہی علمی حقیقت ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس قصے کے پیرا یہ میں ظاہر کرنا چاہا ہے کہ کامل انسان کی نشانی کیا ہے۔پس فرمایا کہ انسان کامل کی پہلی نشانی یہ ہے کہ انسانی خلقت کے کسی حصہ میں وہ کم نصیب نہ ہو اور اس کے روحانی جسمانی اعضا نے بشری بناوٹ سے پورا حصہ لیا ہو اور کمال اعتدال پر اس کی فطرت واقع ہو۔(۲) اور دوسری یہ نشانی ہے کہ الہی روح نے اس کے اندر دخول کیا ہو۔(۳) اور تیسری یہ نشانی ہے کہ فرشتے اس کو سجدہ کریں یعنی تمام فرشتے جو زمین اور آسمان کے کام میں لگے ہوئے ہیں اس کے خادم ہوں اور اس کی منشاء کے مطابق کام کریں۔اصل بات یہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ کسی بندہ کے ساتھ ہوتا ہے تو اس کا تمام لشکر ملائکہ کا بھی اس شخص کے ساتھ ہو جاتا ہے اور اس کی طرف جھک جاتا ہے۔تب ہر ایک میدان میں اور ہر ایک مشکل کے وقت میں فرشتے اس کی مدد کرتے ہیں اور اس کی اطاعت کے لئے ہر دم کمر بستہ رہتے ہیں۔گویا وہ ہر وقت اس کے سامنے سجدہ میں ہیں