تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 27 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 27

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷ سورة الحجر کپڑا پہنتے ہیں تو اس کی بھی تجدید کی ضرورت پیدا ہوتی ہے اسی طریق پرنی ذریت کو تازہ کرنے کے لئے سنت اللہ اسی طرح جاری ہے کہ ہر صدی پر مجدد آتا ہے۔(الحکم جلدے نمبر۷ مورخہ ۲۱ فروری ۱۹۰۳ صفحہ ۷ ) پھر جبکہ اس حد تک اسلام کی حالت ہوگئی ہے تو کیا خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ کہ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَ إِنَّا لَهُ لحفظون بالکل غلط ہو گیا ؟ کیا حق نہ تھا کہ اس وقت اس کی حفاظت کی جاتی؟ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ یہ قوم پورا پورا صدمہ خریف کا اٹھا چکی ہے اب ضروری ہے کہ اسے ربیع کا حصہ ملے اور اسلام کے پاک درخت کے پھل پھول نکلیں سکھوں کے عہد میں اسلام کو جو صدمہ پہنچا ہے وہ بہت ہی ناگوار ہے۔مساجد گرادی گئیں۔وحشیانہ حالت ایسی تھی کہ بانگ اور نماز تک سے روکا جاتا اور شاید ہی کوئی مسلمان ایسا ہو جسے قرآن آتا ہو۔اپنی حالت بھی انہوں نے سکھوں کی سی بنالی۔کچھ پہن لئے اور مونچھیں بڑھالیں اور السلام علیکم کی جگہ واہ گوروجی کی فتح رہ گئی یہ تو وہ حالت تھی جو سکھوں کے عہد میں ہوئی۔اب جب امن ہوا تو فسق و فجور میں ترقی کی اور ادھر عیسائیوں نے ہر قسم کے لالچ دے کر ان کو عیسائی بنانا چاہا اوران کا وار خالی نہیں گیا۔ہر گر جہ میں ہر شریف قوم کی لڑکیاں اور لڑ کے پاؤ گے جو مرتد ہو کر ان میں مل گئے ہیں وہ کیا دردناک واقعہ ہوتا ہے جب کسی شریف خاندان کی لڑکی کو پھسلا کر لے جاتے ہیں۔اور پھر وہ بے پردہ ہو کر پھرتی ہے اور ہر قسم کے معاصی سے حصہ لیتی ہے۔ان حالات کو دیکھ کر ایک معمولی عقل کا آدمی بھی کہہ اُٹھے گا کہ یہ زمانہ بالطبع تقاضا کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے مدد آوے۔ان لوگوں کا تو ہم منہ بند نہیں کر سکتے جو کہیں کہ اسلام اور مسلمانوں کا کچھ نہیں بگڑا۔ایسے لوگوں کے نزدیک تو اگر سب کے سب دہر یہ ہو جائیں تب بھی کچھ نہیں بگڑے گا لیکن سچی بات یہی ہے کہ اس وقت اسلام خدا کی مدد کا سخت محتاج ہے۔اور یہ کیسی خوشی کی بات ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایسے وقت میں اسلام کو بے مدد نہیں چھوڑا۔اس نے اپنے قانون کے موافق مجھے بھیجا ہے تا میں اسے زندہ کروں۔الحاکم جلد ۱۱ نمبر ۳ مورخه ۲۴ / جنوری ۱۹۰۷ صفحه ۸) عقل کے نزدیک بھی زمانہ مسیح کا یہی معلوم ہوتا ہے۔اسلام اس قدر کمزور ہو گیا ہے کہ ایک وقت ایک شخص کے مرتد ہو جانے پر اس میں شور پڑ جاتا تھا لیکن اب لاکھوں مرتد ہو گئے۔رات دن مخالفت اسلام میں کتب تصنیف ہو رہی ہیں۔اسلام کی بیخ کنی کے واسطے طرح طرح کی تجاویز ہورہی ہیں۔عقل پسند نہیں کرتی کہ جس خدا نے اِنا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَ اِنّا لَهُ لَحفِظُونَ کا وعدہ دیا ہے وہ اس وقت اسلام کی حفاظت نہ کرے اور خاموش رہے۔یہ زمانہ کس قسم کی مصیبت کا اسلام پر ہے کہ شرفا کی اولا د شمن اسلام ہو کر