تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 19
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 19 سورة الحجر لِحِفَاظَةِ الْقُرْآنِ مِنْ غَيْرِ حِفاظت ہے کیونکہ حفاظت قرآن کے اور کوئی معنے ہی نہیں سوائے اس کے عِرِهِ عِنْدَ شُيُوعِ فِتَنِ الطَّغْيَانِ کہ اس کی روح اور اس کے خلاصہ کو محفوظ رکھا جائے بالخصوص اس وَإثْبَاتِهِ فى الْقُلُوبِ عِنْدَ هَبْ وقت جبکہ سرکشی کے فتنے بکثرت موجود ہوں اور قرآن مجید کو دلوں صَرَامِي الطُغْيَانِ كَمَا لا یخفی علی میں قائم رکھا جائے جب کہ سرکشی کی تند ہوائیں چل رہی ہوں ذَوِى الْعِرْفَانِ وَالْمُتَدَيرِينَ۔جیسا کہ صاحب علم و عرفان اور غور کرنے والے لوگوں پر مخفی نہیں۔(سر الخلافة ، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۳۶۲،۳۶۱) (ترجمه از مرتب) قرآن شریف میں یہ وعدہ تھا کہ خدا تعالیٰ فتوں اور خطرات کے وقت میں دین اسلام کی حفاظت کرے گا۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے اِنا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ وخدا تعالیٰ نے ہمو جب اس وعدہ کے چار قسم کی حفاظت اپنی کلام کی کی۔اول حافظوں کے ذریعہ سے اُس کے الفاظ اور ترتیب کو محفوظ رکھا۔اور ہر ایک صدی میں لاکھوں ایسے انسان پیدا کئے جو اس کی پاک کلام کو اپنے سینوں میں حفظ رکھتے ہیں۔ایسا حفظ کہ اگر ایک لفظ پوچھا جائے تو اس کا اگلا پچھلا سب بتا سکتے ہیں۔اور اس طرح پر قرآن کو تحریف لفظی سے ہر ایک زمانہ میں بچا یا۔دوسرے ایسے ائمہ اور اکابر کے ذریعہ سے جن کو ہر ایک صدی میں فہم قرآن عطا ہوا ہے جنہوں نے قرآن شریف کے اجمالی مقامات کی احادیث نبویہ کی مدد سے تفسیر کر کے خدا کی پاک کلام اور پاک تعلیم کو ہر ایک زمانہ میں تحریف معنوی سے محفوظ رکھا۔متکلمین کے ذریعہ سے جنہوں نے قرآنی تعلیمات کو عقل کے ساتھ تطبیق دے کر خدا کی پاک کلام کو کو نہ اندیش فلسفیوں کے استخفاف سے بچایا ہے۔چوتھے رُوحانی انعام پانے والوں کے ذریعہ سے جنہوں نے خدا کی پاک کلام کو ہر ایک زمانہ میں منجزات اور معارف کے منکروں کے حملہ سے بچایا ہے۔سو یہ پیشگوئی کسی نہ کسی پہلو کی وجہ سے ہر ایک زمانہ میں پوری ہوتی رہی ہے اور جس زمانہ میں کسی پہلو پر مخالفوں کی طرف سے زیادہ زور دیا گیا تھا اُسی کے مطابق خدا تعالیٰ کی غیرت اور حمایت نے مدافعت کرنے والا پیدا کیا ہے۔لیکن یہ زمانہ جس میں ہم ہیں یہ ایک ایسا زمانہ تھا جس میں مخالفوں نے ہر چہار پہلو کے رُو سے حملہ کیا تھا۔اور یہ ایک سخت طوفان کے دن تھے کہ جب سے قرآن شریف کی دنیا میں اشاعت ہوئی ایسے خطر ناک دن اسلام نے کبھی نہیں دیکھے بدبخت اندھوں نے قرآن شریف کی لفظی صحت پر بھی حملہ کیا اور غلط ترجمے اور تفسیریں شائع کیں۔بہتیرے عیسائیوں اور بعض نیچریوں اور کم فہم مسلمانوں نے تفسیروں اور